(۳۵۹۳۹) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ، عَنْ مَیْمُونِ بْنِ مِہْرَانَ ، قَالَ : قَالَ : سَمِعْت الضَّحَّاکَ بْنَ قَیْسٍ یَقُولُ : اذْکُرُوا اللَّہَ فِی الرَّخَائِ یَذْکُرْکُمْ فِی الشِّدَّۃِ ، فَإِنَّ یُونُسَ کَانَ عَبْدًا صَالِحًا ذَاکِرًا لِلَّہِ ، فَلَمَّا وَقَعَ فِی بَطْنِ الْحُوتِ ، قَالَ اللَّہُ : {فَلَوْلا أَنَّہُ کَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِینَ لَلَبِثَ فِی بَطْنِہِ إِلَی یَوْمِ یُبْعَثُونَ} وَإِنَّ فِرْعَوْنَ کَانَ عَبْدًا طَاغِیًا نَاسِیًا لِذِکْرِ اللہِ ، فَلَمَّا أَدْرَکَہُ {الْغَرَقُ قَالَ : آمَنْت أنَّہُ لاَ إلَہَ إِلاَّ الَّذِی آمَنَتْ بِہِ بَنُو إسْرَائِیلَ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِینَ الآنَ وَقَدْ عَصَیْت قَبْلُ وَکُنْت مِنَ الْمُفْسِدِینَ}۔
(٣٥٩٣٩) حضرت ضحاک بن قیس فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ کو تم نرمی میں یاد کرو تو وہ سختی میں تمہیں یاد کرے گا۔ چنانچہ حضرت یونس (علیہ السلام) خدا کو یاد کرنے والے عبد صالح تھے۔ پس جب وہ مچھلی کے پیٹ میں چلے گئے تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : { فَلَوْلا أَنَّہُ کَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِینَ لَلَبِثَ فِی بَطْنِہِ إِلَی یَوْمِ یُبْعَثُونَ } اور فرعون ایک سرکش اور یاد خدا کو بھولنے والا بندہ تھا۔ پس جب وہ غرق ہونے لگا تو اس نے کہا کہ میں اس بات پر ایمان لاتا ہوں کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں مسلمانوں میں سے ہیں، حالانکہ پہلے تو نے نافرمانی کی تھی اور تو فساد کرنے والوں میں سے تھا۔