(۳۵۹۴۱) قَالَ : وَحَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ أَبِی نَعَامَۃَ سَمِعَہُ مِنْ خَالِدِ بْنِ عُمَیْرٍ ، قَالَ : خَطَبَنَا عُتْبَۃُ بْنُ غَزْوَانَ ، قَالَ أَبُو نَعَامَۃَ عَلَی الْمِنْبَرِ ، وَلَمْ یَقُلْہُ قُرَّۃُ ، فَقَالَ : أَلاَ إِنَّ الدُّنْیَا قَدْ آذَنَتْ بِصُرْمٍ وَوَلَّتْ حَذَّائَ ، وَلَمْ یَبْقَ مِنْہَا إِلاَّ صُبَابَۃٌ کَصُبَابَۃِ الإِنَائِ ، فَأَنْتُمْ فِی دَارٍ مُنْتَقِلُونَ عَنْہَا ، فَانْتَقِلُوا بِخَیْرِ مَا بِحَضْرَتِکُمْ ، وَلَقَدْ رَأَیْتُنِی سَابِعَ سَبْعَۃٍ مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَمَا لَنَا طَعَامٌ نَأْکُلُہُ إِلاَّ وَرَقُ الشَّجَرِ حَتَّی قَرِحَتْ أَشْدَاقُنَا ، قَالَ قُرَّۃُ : وَلَقَدْ وَجَدْت بُرْدَۃً ، قَالَ : وَقَالَ أَبُو نَعَامَۃَ : الْتَقَطْت بُرْدَۃً ، فَشَقَقْتہَا نِصْفَیْنِ فَلَبِسْت نِصْفَہَا وَأَعْطَیْت سَعْدًا نِصْفَہَا ، وَلَیْسَ مِنْ أُولَئِکَ السَّبْعَۃِ أَحَدٌ الْیَوْمَ حَیٌّ إِلاَّ عَلَی مِصْرٍ مِنَ الأَمْصَارِ ، وَلَتُجَرِّبُنَّ الأُمَرَائَ بَعْدِی ، وَإِنَّہُ وَاللہِ مَا کَانَتْ نُبُوَّۃٌ إِلاَّ تَنَاسَخَتْ حَتَّی تَکُونُ مُلْکًا وَجَبْرِیَّۃً ، وَلَقَدْ ذُکِرَ لِی ، قَالَ قُرَّۃُ : إنَّ الْحَجَرَ ، وَقَالَ أَبُو نَعَامَۃَ : إنَّ الصَّخْرَۃَ یُقْذَفُ بِہَا مِنْ شَفِیرِ جَہَنَّمَ فَتَہْوِی إِلَی قَرَارِہَا ، قَالَ قُرَّۃُ : أَرَاہُ ، قَالَ : سَبْعِینَ ، وَقَالَ أَبُو نَعَامَۃَ : سَبْعِینَ خَرِیفًا ، وَلَتُمْلأَنَّ ، وَإِنَّ مَا بَیْنَ الْمِصْرَاعَیْنِ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّۃِ لِمَسِیرَۃِ أَرْبَعِینَ عَامًا ، وَلَیَأْتِیَنَّ عَلَی أَبْوَابِ الْجَنَّۃِ یَوْمٌ وَلَیْسَ مِنْہَا بَابٌ إِلاَّ وَہُوَ کَظِیظٌ ، وَإِنِّی أَعُوذُ بِاللہِ أَنْ أَکُونَ فِی نَفْسِی عَظِیمًا ، وَعِنْدَ اللہِ صَغِیرًا۔
(٣٥٩٤١) حضرت خالد بن عمیر کہتے ہیں کہ حضرت عتبہ بن غزوان نے ہمیں منبر پر خطبہ دیا تو کہا : خبردار ! بیشک دنیا آہستہ آہستہ واپس جاتی ہے اور اس میں سے صرف بچے ہوئے پانی کی طرح باقی رہ گیا ہے۔ پس تم ایسے گھر میں ہو جس سے تمہیں کوچ کرنا ہے۔ پس تم اپنے پاس موجود خیر کو لے کر منتقل ہو۔ تحقیق میں نے تو خود کو جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ سات لوگوں میں سے ساتواں اس حالت میں دیکھا کہ ہمارے پاس ان درختوں کے پتوں کے علاوہ کھانے کو کچھ نہ تھا یہاں تک کہ ہماری باچھیں زخمی ہوگئیں۔ مجھے ایک چاد رملی میں نے اس کو دو ٹکڑوں میں پھاڑ لیا۔ پھر آدھی چادر میں نے پہن لی اور آدھی چادر میں نے حضرت سعد کو دے دی اور ان سات لوگوں میں سے ہر ایک آدمی کسی شہر پر عامل ہے اور میرے بعد امراء کو ضرور آزمایا جائے گا اور خدا کی قسم ! (مجھے یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ ایک پتھر جس کو جہنم کے کنارے سے پھینکا جائے تو وہ اس کی تہہ میں ستر سالوں کے بعد پہنچے گا اور اس جہنم کو ضرور بھر دیا جائے گا اور جنت کے دروازوں میں سے ہر دروازے کے دو چوکھٹوں کے درمیان چالیس سال کی مسافت ہے اور ضرور جنت کے دروازوں پر وہ دن آئے گا کہ اس کا ہر دروازہ تنگ ہوجائے گا۔ میں اس بات سے خدا کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں اپنے دل میں بڑا ہوں اور خدا کے ہاں چھوٹا ہوں۔