(۳۵۹۴۲) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرُو ، عَنِ الْمَاجِشُونِ بْنِ أَبِی سَلَمَۃَ ، قَالَ : قَالَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ : ثَلاَثٌ أَنَا فِیمَا سِوَاہُنَّ بَعْدُ ضَعِیفٌ : مَا سَمِعْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ قَوْلاً قَطُّ إِلاَّ عَلِمْت أَنَّہُ حَقٌّ ، وَلاَ صَلَّیْت صَلاَۃً قَطُّ فَأَلْہَانِی عنہا غَیْرُہَا حَتَّی أَنْصَرِفَ ، وَلاَ تَبِعْت جِنَازَۃً فَحَدَّثْت نَفْسِی بِغَیْرِ مَا ہِیَ قَائِلَۃٌ ، أَوْ یُقَالَ لَہَا حَتَّی نَفْرُغَ مِنْہَا ، قَالَ مُحَمَّدٌ : فَحَدَّثْت بِذَلِکَ الزُّہْرِیَّ ، فَقَالَ : یَرْحَمُ اللَّہُ سَعْدًا إنْ کَانَ لَمَأْمُونًا ، وَمَا کُنْت أَرَی ، أَنَّ أَحَدًا یَکُونُ ہَکَذَا إِلاَّ نَبِیٌّ۔
(٣٥٩٤٢) حضرت ماجشون بن ابی سلمہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت سعد بن معاذ (رض) نے فرمایا : میں تین چیزوں کے علاوہ میں ابھی تک کمزور ہوں۔ میں نے جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کبھی کوئی بات نہیں سنی مگر یہ کہ مجھے اس کے برحق ہونے کا علم ہوتا ہے اور میں نے کبھی کوئی نماز نہیں پڑھی کہ اس دوران مجھے کسی چیز نے اس سے غافل کیا ہو یہاں تک کہ میں نماز سے فارغ ہوجاؤں اور میں نے کسی جنازہ کی پیروی نہیں کی کہ میرے دل میں اس کے علاوہ کوئی بات ہو یہاں تک کہ ہم اس سے فارغ ہوجائیں۔ محمد راوی کہتے ہیں میں نے یہ بات امام زہری سے بیان کی تو انھوں نے فرمایا : اللہ تعالیٰ حضرت سعد پر رحم کرے۔ وہ تو امن یافتہ تھے۔ میرے خیال میں تو ایسی حالت نبی کی ہوتی ہے۔