(۳۵۹۶۵) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِی کَبْشَۃَ ، عَنْ أَبِی مُوسَی ، قَالَ : الْجَلِیسُ الصَّالِحُ خَیْرٌ مِنَ الْوَحْدَۃِ وَالْوَحْدَۃُ خَیْرٌ مِنْ جَلِیسِ السُّوئِ ، أَلاَ إنَّ مَثَلَ الْجَلِیس الْصَّالِح کَمَثَلِ الْعِطْرِ أَلاَ یُحْذِکَ یَعْبَقُ بِکَ مِنْ رِیحِہِ ، أَلاَ وَإِنَّ مَثَلَ جَلِیسِ السُّوئِ کَمَثَلِ الْکِیرِ إِلاَّ یَحْرُقُک یَعْبَقُ بِکَ مِنْ رِیحِہِ ، أَلاَ وَإِنَّمَا سُمِّیَ الْقَلْبُ مِنْ تَقَلُّبِہِ ، أَلاَ وَإِنَّ مَثَلَ الْقَلْبِ مَثَلُ رِیشَۃٍ مُتَعَلِّقَۃٍ بِشَجَرَۃٍ فِی فَضَائٍ مِنَ الأَرْضِ فَالرِّیحُ تُقَلِّبُہَا ظَہْرًا وَبَطْنًا۔ (ابن المبارک ۳۵۸)
(٣٥٩٦٥) حضرت ابوموسیٰ (رض) سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اچھا ہم نشین، خلوت سے بہتر ہوتا ہے اور خلوت، برے ہم نشین سے بہتر ہے۔ خبردار ! اچھے ہم نشین کی مثال عطر کی سی ہے اگر وہ تجھے نہ بھی دے تو بھی خوشبو لگ کر تم مہک جاؤ گے۔ اور خبردار ! برے ہم نشین کی مثال بھٹی کی دھونی کی سی ہے اگر وہ تمہیں نہ جلائے تو اس کی بو تمہیں پہنچ جائے گی۔ خبردار ! دل کو دل اس کے پلٹنے کی وجہ سے کہا جاتا ہے۔ خبردار ! دل کی مثال زمین کے اوپر فضا میں درخت کے ساتھ لٹکے ہوئے پر کی سی ہے۔ کہ ہوا اس کو اوپر، نیچے کی جانب پلٹتی رہتی ہے۔