(۳۵۹۶۶) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِیِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : کُنَّا مَعَ أَبِی مُوسَی فِی منزلہ فَسَمِعَ النَّاسَ یَتَکَلَّمُونَ فَسَمِعَ فَصَاحَۃً وَبَلاَغَۃً ، قَالَ : فَقَالَ : یَا أَنَسُ ، ہَلُمَّ فَلْنَذْکُرِ اللَّہَ سَاعَۃً ، فَإِنَّ ہَؤُلاَئِ یَکَادُ أَحَدُہُمْ أَنْ یَفْرِیَ الأَدِیمَ بِلِسَانِہِ ، ثُمَّ قَالَ : یَا أَنَسُ ، مَا ثَبَّطَ النَّاسَ عَنِ الآخِرَۃِ مَا ثَبَّطَہُمْ عنہا ؟ قَالَ : قُلْتُ : الدُّنْیَا وَالشَّہَوَاتُ ، قَالَ : لاَ ، وَلَکِنْ غُیِّبَتِ الآخِرَۃُ وَعُجِّلَتِ الدُّنْیَا ، وَلَوْ عَایَنُوا مَا عَدَلُوا بَیْنَہُمَا ، وَلاَ مَیَّلُوا۔
(٣٥٩٦٦) حضرت انس (رض) سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم حضرت ابوموسیٰ (رض) کے ہمراہ ان کے گھر پر تھے کہ انھوں نے کچھ لوگوں کو باتیں کرتے سنا اور انھوں نے فصاحت و بلاغت کے ساتھ سنا۔ راوی کہتے ہیں انھوں نے فرمایا : اے انس ! آؤ، ہم کچھ دیر اللہ کا ذکر کرلیں۔ کیونکہ یہ تو ایسے ہیں کہ ان میں سے کوئی ایک اپنی زبان سے چمڑے کو کاٹ دے پھر آپ (رض) نے فرمایا : کس چیز نے لوگوں کو آخرت سے روکا ہے ؟ کس چیز نے انھیں اس سے روکا ہے ؟ راوی کہتے ہیں میں نے کہا : دنیا اور خواہشات۔ آپ (رض) نے فرمایا : نہیں۔ بلکہ آخرت آنکھوں سے غائب ہے اور دنیا حاضر ہے۔ اگر لوگ معائنہ کرلیں تو ان کے درمیان عدل نہ کریں اور نہ متردد ہوں۔