(۳۶۰۰۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ رَبِیعِ بْنِ خُثَیْمٍ ، أَنَّہُ سُرِقَتْ لَہُ فَرَسٌ مِنَ اللَّیْلِ وَہُوَ یُصَلِّی قِیمَتُہُ ثَلاَثُونَ أَلْفًا فَلَمْ یَنْصَرِفْ ، فَأَصْبَحَ فَحَمَلَ عَلَی مَہْرِہَا ، ثُمَّ أَصْبَحَ ، فَقَالَ : اللَّہُمَّ سَرَقَنِی وَلَمْ أَکُنْ لأَسْرِقُہُ ، قَالَ : وَکَانَ رَبِیعٌ یَجْہَرُ بِالْقِرَائَۃِ فَإِذَا سَمِعَ وَقْعًا خَافَتَ۔
(٣٦٠٠٣) حضرت ربیع بن خثیم کے بارے میں روایت ہے کہ ان کا ایک تیس ہزار کی قیمت کا گھوڑا رات نماز پڑھتے ہوئے چوری ہوا لیکن انھوں نے نماز نہ چھوڑی۔ جب صبح ہوئی تو ربیع نے اس کے بچے پر سواری شروع کردی پھر جب صبح ہوئی تو انھوں نے کہا : اے اللہ ! اس نے میری چوری کرلی حالانکہ میں نے اس کی چوری نہیں کی تھی۔ راوی کہتے ہیں : حضرت ربیع قراءت بلند آواز سے کیا کرتے تھے۔ جب آپ نے قدموں کی چاپ سنی تو آہستہ قراءت کرلی۔