(۳۶۰۰۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِیُّ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ ، قَالَ لِلرَّبِیعِ: أَلاَ نَدْعُو لَک طَبِیبًا، فَقَالَ : أَنْظِرُونِی ، ثُمَّ تَفَکَّرَ ، فَقَالَ : {وَعَادًا وَثُمُودَ وَأَصْحَابَ الرَّسِّ وَقُرُونًا بَیْنَ ذَلِکَ کَثِیرًا وَکُلاًّ ضَرَبْنَا لَہُ الأَمْثَالَ وَکُلاًّ تَبَّرْنَا تَتْبِیرًا} فَذَکَرَ مِنْ حِرْصِہِمْ عَلَی الدُّنْیَا وَرَغْبَتِہِمْ فِیہَا، قَالَ: فَقَدْ کَانَتْ مرضی وکان منہم أَطِبَّائُ ، فَلاَ الْمُدَاوِی بَقِیَ ، وَلاَ الْمُدَاوَی ، ہَلَکَ الَّنَاعِت وَالْمنْعُوتُ لَہُ ، وَاللہِ لاَ تَدْعُونَ لِی طَبِیبًا۔
(٣٦٠٠٤) حضرت عبدالملک بن عمیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ربیع سے کہا گیا ہم آپ کے لیے حکیم کو نہ بلائیں ؟ آپ نے فرمایا : تم مجھے مہلت دے دو ۔ پھر آپ نے فکر فرمایا تو کہا : { وَعَادًا وَثُمُودَ وَأَصْحَابَ الرَّسِّ وَقُرُونًا بَیْنَ ذَلِکَ کَثِیرًا وَکُلاًّ ضَرَبْنَا لَہُ الأَمْثَالَ وَکُلاًّ تَبَّرْنَا تَتْبِیرًا } پھر آپ نے ان لوگوں کی دنیوی زندگی پر حرص اور اس زندگی کی رغبت ذکر فرمائی۔ فرمایا : یہ لوگ بیمار ہوئے اور کچھ ان میں حکیم تھے لیکن دوائی کھانے والا بھی باقی نہ رہا اور دوائی کھلانے والا بھی باقی نہ رہا۔ صفت کرنے والا اور صفت کیا ہوا دونوں ہلاکت کا شکار ہوئے۔ بخدا ! تم لوگ میرے لیے حکیم کو نہ بلاؤ۔