hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 36133

.

ابن أبي شيبة

36133
Ibn Abi Shaybah
(۳۶۱۳۴) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ ، عَنْ رِبْعِیِّ بْنِ حِرَاشٍ ، قَالَ : أُتِیتُ فَقِیلَ لِی : قَدْ مَاتَ أَخُوک ، فَجِئْت سَرِیعًا وَقَدْ سُجِّیَ بِثَوْبِہِ ، فَأَنَا عِنْدَ رَأْسِ أَخِی أَسْتَغْفِرُ لَہُ وَأَسْتَرْجِعُ إذْ کُشِفَ الثَّوْبُ عَنْ وَجْہِہِ ، فَقَالَ : السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ ، فَقُلْنَا : وَعَلَیْک السَّلاَمُ سُبْحَانَ اللہِ ، قَالَ : سُبْحَانَ اللہِ إنِّی قَدِمْت عَلَی اللہِ بَعْدَکُمْ فَتُلُقِّیت بِرَوْحٍ وَرَیْحَانٍ وَرَبٍّ غَیْرِ غَضْبَانَ ، وَکَسَانِی ثِیَابًا خُضْرًا مِنْ سُنْدُسٍ وَإِسْتَبْرَقٍ ، وَوَجَدْت الأَمْرَ أَیْسَرَ مِمَّا تَظُنُّونَ ، وَلاَ تَتَّکِلُوا ، وَإِنِّی أَسْتَأْذَنْت رَبِّی أن أُخْبِرُکُمْ وَأُبَشِّرُکُمْ ، احْمِلُونِی إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَإِنَّہُ عَہِدَ إلَیَّ أَنْ لاَ أَبْرَحَ حَتَّی آتِیَہُ ، ثُمَّ طَفِئَ مَکَانُہُ ، قَالَ : وَأَخَذَ حَصَاۃً فَرَمَی بِہَا ، قَالَ : فَمَا أَدْرِی أَہُوَ کَانَ أَسْرَعَ أَمْ ہَذِہِ۔
(٣٦١٣٤) حضرت ربعی بن حراش سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میرے پاس کوئی آیا اور مجھے کہا تمہارا بھائی مرگیا ہے۔ پس میں جلدی سے آیا۔ اس کو اس کے کپڑوں میں ڈھانپ دیا گیا تھا اور میں اپنے بھائی کے سر کے پاس کھڑا اس کے لیے استغفار کررہا تھا۔ اور انا للہ پڑھ رہا تھا کہ اچانک اس کے چہرے سے کپڑا ہٹا اور اس نے کہا : السلام علیکم ! ہم نے جواب میں کہا۔ وعلیک السلام۔ سبحان اللہ۔ اس نے کہا : سبحان اللہ۔ میں تمہارے بعد اللہ کے پاس حاضر ہوا تھا۔ وہاں میرا استقبال باد نسیم اور ریحان کے ساتھ اور ایسے پروردگار نے کیا جو غصہ میں نہیں تھا۔ اور مجھے سندس اور ریشم کا سبز لباس پہنایا۔ اور میں نے تمہارے گمان سے بھی آسان معاملہ پایا۔ اور تم بھروسہ کر کے نہ بیٹھ جاؤ۔ میں نے اپنے رب سے اس بات کی اجازت لی ہے کہ میں تمہیں خبر دوں اور بشارت دوں۔ تم مجھے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف لے چلو۔ کیونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے ساتھ عہد کیا ہے کہ میں تمہارے آنے تک یہیں رہوں گا۔ پھر یہ صاحب اسی جگہ فوت ہوگئے۔ راوی کہتے ہیں اس نے ایک کنکری پکڑی اور پھینک دی۔ راوی کہتے ہیں۔ مجھے یہ بات معلوم نہیں ہے کہ وہ زیادہ تیز تھے یا یہ۔