(۳۶۱۳۵) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ أَبِی عَوْنٍ ، قَالَ : کَانَ أَہْلُ الْخَیْرِ إذَا الْتَقَوْا یُوصِی بَعْضُہُمْ بَعْضًا بِثَلاَثٍ ، وَإِذَا غَابُوا کَتَبَ بَعْضُہُمْ إِلَی بَعْضٍ مَنْ عَمِلَ لآخِرَتِہِ کَفَاہُ اللَّہُ دُنْیَاہُ ، وَمَنْ أَصْلَحَ فِیمَا بَیْنَہُ وَبَیْنَ اللہِ کَفَاہُ اللَّہُ النَّاسَ ، وَمَنْ أَصْلَحَ سَرِیرَتَہُ أَصْلَحَ اللَّہُ عَلاَنِیَتَہُ۔
(٣٦١٣٥) حضرت ابوعون سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اہل خیر جب باہم ملتے تھے تو ان میں سے بعض، بعض کو تین باتوں کی وصیت کرتے تھے اور جب یہ غائب ہوتے تو پھر ایک دوسرے کو یہ تحریر کرتے۔ جو شخص اپنی آخرت کے لیے عمل کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی دنیا کے لیے اس کو کافی ہوجاتے ہیں۔ جو شخص اپنے اور اپنے اللہ کے درمیان معاملہ درست رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو لوگوں کی طرف سے کفایت کرجاتے ہیں۔ جو شخص اپنی خلوت کو درست رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی جلوت کو درست کردیتے ہیں۔