(۳۶۲۳۰) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَبِی مَخْزُومٍ ، قَالَ : حدَّثَنِی عُمَرُ بْنُ أَبِی الْوَلِیدِ ، قَالَ : خَرَجَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَہُوَ نَاحِلُ الْجِسْمِ یَخَطُبُ کَمَا کَانَ یَخْطُبُ ، ثُمَّ قَالَ : یَا أَیُّہَا النَّاسُ ، مَنْ أَحْسَنَ مِنْکُمْ فَلْیَحْمَدَ اللَّہَ وَمَنْ أَسَائَ فَلْیَسْتَغْفِرَ اللَّہَ ، فَإِنَّہُ لاَ بُدَّ لأَقْوَامٍ أَنْ یَعْمَلُوا أَعْمَالاً وَضَعَہَا اللَّہُ فِی رِقَابِہِمْ وَکَتَبَہَا عَلَیْہِمْ۔
(٣٦٢٣٠) حضرت عمر بن الولید بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز ایک جمعہ کو باہر تشریف لائے ۔۔۔ آپ کا جسم بہت کمزور تھا ۔۔۔ آپ نے خطبہ دیا جس طرح آپ خطبہ دیتے تھے۔ پھر فرمایا : اے لوگو ! تم میں سے جو اچھا کام کرے تو اس کو اللہ کی تعریف کرنی چاہیے۔ اور تم میں سے جو برا کام کرے تو اس کو اللہ سے معافی مانگنی چاہیے۔ کیونکہ لوگوں کے لیے یہ بات لازمی ہے کہ وہ اعمال کریں اور اللہ ان اعمال کو ان کی گردنوں پر رکھ دے اور ان اعمال کو ان لوگوں پر لکھ دے۔