(۳۶۲۴۱) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ، قَالَ : کَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ : أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنَّ أُنَاسًا مِنَ النَّاسِ الْتَمَسُوا الدُّنْیَا بِعَمَلِ الآخِرَۃِ ، وَإِنَّ أُنَاسًا مِنَ الْقُصَّاصِ قَدْ أَحْدَثُوا مِنَ الصَّلاَۃِ عَلَی خُلَفَائِہِمْ وَأُمَرَائِہِمْ عِدْلَ صَلاَتِہِمْ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَإِذَا أَتَاک کِتَابِی ہَذَا فَمُرْہُمْ أَنْ تَکُونَ صَلاَتُہُمْ عَلَی النبی صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وعلی النَّبِیّینَ وَدُعَاؤُہُمْ لِلْمُسْلِمِینَ عَامَّۃً ، وَیَدَعُوا مَا سِوَی ذَلِکَ۔
(٣٦٢٤١) حضرت جعفر بن برقان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز (رض) نے خط لکھا۔ اما بعد ! بیشک کچھ لوگ آخرت کے عمل سے دنیا کو تلاش کرتے ہیں اور کچھ قصہ گو لوگوں نے جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرح اپنے خلفاء اور امراء پر درود بھیجنے کی بدعت نکال لی ہے۔ پس جب تمہارے پاس میرا یہ خط آئے تو تو لوگوں کو حکم دے کہ وہ جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور دیگر انبیاء پر درود بھیجیں۔ اور عام مسلمان لوگوں کے لیے دعا ہے اور ان کے علاوہ کو چھوڑ دیں۔