(۳۶۲۴۴) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ یَحْیَی ، قَالَ : کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ فَدَخَلَ عَلَیْہِ عَبْدُ الأَعْلَی بْنُ ہِلاَلٍ ، فَقَالَ : أَبْقَاک اللَّہُ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ مَا دَامَ الْبَقَائُ خَیْرًا لَک ، قَالَ : قَدْ فُرِغَ مِنْ ذَلِکَ یَا أَبَا النَّضْرِ ، وَلَکِنْ قُلْ : أَحْیَاک اللَّہُ حَیَاۃً طَیِّبَۃً ، وَتَوَفَّاک مَعَ الأَبْرَارِ۔
(٣٦٢٤٤) حضرت طلحہ بن یحییٰ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عمر بن عبدالعزیز کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ان کے پاس حضرت عبدالاعلیٰ بن ہلال تشریف لائے اور کہا : اے امیر المومنین ! جب تک باقی رہنا آپ کے لیے بہتر ہو۔ اللہ آپ کو باقی رکھے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے کہا : اے ابوالنضر ! اس دعا سے تو فراغت ہوچکی ہے۔ لیکن تم یہ دعا کرو۔ اللہ تمہیں طیب زندگی عطا کرے اور تمہیں نیک لوگوں کے ساتھ وفات دے۔