(۳۶۳۰۹) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِی الْمِنْہَالِ ، قَالَ : حدَّثَنِی صَفْوَانُ بْنُ مُحْرِزٍ ، قَالَ : قَالَ جُنْدُبٌ : مَثَلُ الَّذِی یَعِظُ وَیَنْسَی نَفْسَہُ مَثَلُ الْمِصْبَاحِ یَفِیئُ لِغَیْرِہِ وَیُحْرِقُ نَفْسَہُ ، لِیُبْصِرْ أَحَدُکُمْ مَا یُجْعَلُ فِی بَطْنِہِ، فَإِنَّ الدَّابَّۃَ إذَا مَاتَتْ کَانَ أَوَّلَ مَا یَنْفَتِقُ مِنْہَا بَطْنُہَا ، وَلْیَتَّقِ أَحَدُکُمْ أَنْ یَحُولَ بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْجَنَّۃِ مِلْئُ کَفٍّ مِنْ دَمِ مُسْلِمٍ۔ (عبدالرزاق ۱۸۲۵۰)
(٣٦٣٠٩) حضرت صفوان بن محرز بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت جندب نے فرمایا : اس آدمی کی مثال جو وعظ کہتا ہے اور خود کو بھول جاتا ہے اس چراغ کی طرح ہے جو دوسروں کے لیے روشنی کرتا ہے اور اپنا آپ کو جلاتا ہے۔ چاہیے کہ تم میں سے (ہر) ایک اپنے پیٹ میں جانے والی چیز کو دیکھے۔ کیونکہ جب جانور مرجاتا ہے تو سب سے پہلے اس کا پیٹ پھٹتا ہے۔ اور تم میں سے (ہر) ایک، اپنے اور جنت کے درمیان خون مسلم کی ایک مٹھی کے بھی حائل ہونے سے ڈرے۔