(۳۶۳۱۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِی رَجُلٌ مِنْ عُرَیْنَۃَ ، قَالَ : خَرَجَ جُنْدُبٌ الْبَجَلِیُّ فِی سَفَرٍ لَہُ ، فَخَرَجَ مَعَہُ نَاسٌ مِنْ قَوْمِہِ حَتَّی إذَا کَانُوا فِی الْمَکَانِ الَّذِی یُوَدِّعُ بَعْضُہُمْ بَعْضًا ، قَالَ : أَلاَ تَرَی ، الْمَحْرُوبُ مَنْ حُرِبَ دِینُہُ وَإِنَّ الْمَسْلُوبَ مَنْ سُلِبَ دِینُہُ ، أَلاَ ، إِنَّہُ لاَ فَقْرَ بَعْدَ الْجَنَّۃِ ، وَلاَ غِنَی بَعْدَ النَّارِ ، أَلاَ إنَّ النَّارَ لاَ یُفَکُّ أَسِیرُہَا ، وَلاَ یَسْتَغْنِی فَقِیرُہَا ، ثُمَّ رَکِبَ الْجَادَّۃَ وَانْطَلَقَ۔
(٣٦٣١٠) قبیلہ عرینہ کے ایک صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضرت جندب بجلی، اپنے ایک سفر میں نکلے اور ان کے ساتھ ان کی قوم کے کچھ لوگ بھی نکلے۔ یہاں تک کہ جب وہ اس جگہ پہنچے جہاں ان میں سے بعض نے بعض کو الوداع کہا۔ تو جندب نے کہا۔ آپ کو معلوم نہیں ہے۔ محروب وہ ہوتا ہے جس کے دین پر حملہ ہوا ہو اور مسلوب وہ ہے جس کا دین سلب ہوا ہو۔ خبردار ! جنت کے بعد کوئی فقر نہیں ہے اور جہنم کے بعد کوئی غناء نہیں ہے۔ ہاں یہ بات ہے کہ جہنم کا قیدی رہائی نہیں پاتا اور اس کا فقیر، غنی نہیں ہوپاتا۔ پھر آپ سواری پر سوار ہوئے اور چل پڑے۔