(۳۶۳۲۰) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی ، قَالَ : أَخْبَرَنَا صَالِحٌ الْفَزَارِیّ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ بْنِ مَیْمُونٍ ، عَنْ وَہْبِ بْنِ مُنَبِّہٍ، قَالَ : قَالَ دَاوُد : یَا رَبِ ، ابْنُ آدَمَ لَیْسَ مِنْہُ شَعْرَۃٌ إِلاَّ تَحْتَہَا مِنْک نِعْمَۃٌ ، وَفَوْقَہَا مِنْک نِعْمَۃٌ ، فَمِنْ أَیْنَ یُکَافِؤکَ بِمَا أَعْطَیْتَہُ ، قَالَ : فَأَوْحَی اللَّہُ إلَیْہِ : یَا دَاوُد ، إنِّی أُعْطِی الْکَثِیرَ وَأَرْضَی بِالْیَسِیرِ ، أداء شَکَرَ ذَلِکَ لِی أَنْ یَعْلَمَ أَنَّ مَا بِہِ مِنْ نِعْمَۃٍ مِنِّی۔
(٣٦٣٢٠) حضرت وہب بن منبہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت داؤد نے عرض کیا۔ اے پروردگار ! آدم کے بیٹے کے ہر بال کے نیچے بھی آپ کی نعمت ہے اور اس کے اوپر بھی ایک نعمت ہے۔ پس وہ آپ کو، آپ کی عطاؤں کا بدلہ کہاں سے دیں گے ؟ راوی کہتے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد کو وحی کی۔ بیشک میں کثیر عطا کرتا ہوں اور تھوڑے پر راضی ہوجاتا ہوں۔ میری ان نعمتوں کا ادائے شکر یہ ہے کہ یہ بات معلوم کی جائے کہ جو کوئی بھی نعمت ہے وہ میری طرف سے ہے۔