(۳۶۳۲۱) حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَطَائُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ وَہْبِ بْنِ مُنَبِّہٍ ، قَالَ : أَعْطَی اللَّہُ مُوسَی نُورًا یَکُونُ لِغَیْرِہِ نَارًا ، قَالَ : فَدَعَا مُوسَی ہَارُونَ ، فَقَالَ : إنَّ اللَّہَ وَہَبَ لِی نُورًا یَکُونُ لِغَیْرِی نَارًا ، وَإِنَّ مُوسَی وَہَبَہُ لِی ، وَإِنِّی أَہَبُہُ لَکُمَا قَالَ : فَکَانَ ابْنَا ہَارُونَ یُقَرِّبَانِ الْقُرْبَانَ لِبَنِی إسْرَائِیلَ ، قَالَ : فأحدثا شَیْئًا فَنَزَلَتِ النَّارُ فَاحْتَرَقَا ، قَالَ : فَقِیلَ لَہُمَا : یَا مُوسَی وَہَارُونُ ، کَذَا أَصْنَعُ بِمَنْ عَصَانِی مِنْ أَہْلِ طَاعَتِی فَکَیْفَ أَصْنَعُ بِمَنْ عَصَانِی مِنْ أَہْلِ مَعْصِیَتِی۔
(٣٦٣٢١) حضرت وہب بن منبہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کو ایسا نور دیا تھا جو دوسروں کے لیے آگ ہوتا تھا۔ راوی کہتے ہیں پھر موسیٰ نے حضرت ہارون کو بلایا اور کہا۔ تحقیق اللہ تعالیٰ نے مجھے ایسا نور عطا کیا ہے جو دوسروں کے لیے آگ ہوتا ہے۔ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ مجھے ہدیہ کیا تھا اور میں یہ تم دونوں کو ہدیہ کرتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں۔ چنانچہ حضرت ہارون کے دونوں بیٹے بنی اسرائیل کے لیے قربانی کرتے تھے۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر ان دونوں نے کوئی بات نئی نکال دی تو آگ اتری اور ان کو جلا دیا۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر ان سے کہا گیا۔ اے موسیٰ و ہارون ! میرے اہل طاعت میں سے جو میری نافرمانی کرتا ہے میں اس کے ساتھ اسی طرح کرتا ہوں۔ تو پھر میں اپنے نافرمانوں میں سے نافرمانی کرنے والے کے ساتھ کیسا سلوک کروں گا ؟ “