hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 36561

.

ابن أبي شيبة

36561
Ibn Abi Shaybah
(۳۶۵۶۲) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ، عَنْ مِسْعَرٍ، قَالَ: أَعْطَانِی زَیْدٌ الْعَمِّیُّ کِتَابًا فِیہِ، أَنَّ رَجُلاً أَوْصَی ابْنَہُ، قَالَ: یَا بُنَی، کُنْ مِنْ نَأْیُہ مِمَّنْ نَأَی عَنْہُ تَغَنِّیًا وَنَزَاہَۃٌ، وَدُنُوِّہِ مِمَّنْ دَنَا مِنْہُ لِینٌ وَرَحْمَۃٌ، لَیْسَ نَأْیُہُ کِبَرًا، وَلاَ عَظَمَۃً، وَلَیْسَ دُنُوُّہُ خَدْعًا، وَلاَ خِیَانَۃً ، لاَ یُعَجِّلُ فِیمَا رَابَہُ ، وَیَعْفُو عَمَّا تَبَیَّنَ لَہُ ، لاَ یَغُرُّہُ ثَنَائُ مَنْ جَہِلَہُ، وَلاَ یَنْسَی إحْصَائَ مَا قَدْ عَمِلَہُ، إنْ ذُکِرَ خَافَ مِمَّا یَقُولُونَ، وَاسْتَغْفَرَ مِمَّا لاَ یَعْلَمُونَ، یَقُولُ رَبِّی أَعْلَمُ بِی مِنْ نَفْسِی، وَأَنَا أَعْلَمُ بِنَفْسِی مِنْ غَیْرِی ، یَسْأَلُ لِیَعْلَمَ ، وَیَنْطِقُ لِیَغْنَمَ ، وَیَصْمُتُ لِیَسْلَمَ ، وَیُخَالِطُ لِیَفْہَمَ، إنْ کَانَ فِی الْغَافِلِینَ کُتِبَ مِنَ الذَّاکِرِینَ وَإِنْ کَانَ فِی الْذَّاکِرینَ ، لَمْ یُکْتَبْ مِنَ الْغَافِلِینَ ، لأَنَّہُ یَذْکُرُ إذَا غَفَلُوا، وَلاَ یَنْسَی إذَا ذَکَرُوا، قَالَ حُسَیْنٌ: وَزَادَ فِیہِ ابْنُ عُیَیْنَۃَ: یَمْزُجُ الْعِلْمَ بِحِلْمِ زَہَادَتِہِ فِیمَا یَفْنَی کَرَغْبَتِہِ فِیمَا یَبْقَی۔
(٣٦٥٦٢) حضرت مسعر فرماتے ہیں کہ مجھے زید عمی نے ایک خط دیا جس میں لکھا تھا کہ ایک آدمی نے اپنے بیٹے کو نصیحت کی کہ اے میرے بیٹے ! ایسا شخص بن جا جو لوگوں سے بےنیازی اور پاکدامنی کے لیے دور رہے، نرمی اور رحمت اس کے قریب ہو، اس کا دور ہونا تکبر یا نخوت کی وجہ سے نہ ہو۔ اس کا قریب ہونا دھوکا دینے یا خیانت کرنے کے لیے نہ ہو۔ شک والا کام کرنے میں جلدی نہ کرے۔ جہاں تک ہوسکے معاف کردے۔ جو اسے نہ جانتا ہو اس کے تعریف کرنے سے دھوکا میں نہ پڑے اور جو وہ کرچکا ہے اسے نہ بھولے۔ اس کا ذکر کیا جائے تو لوگوں کی باتیں اسے خوف میں مبتلا کردیں اور جو وہ نہیں جانتے اس پر استغفار کرے۔ علم کے حصول کے لیے سوال کرے، فائدہ پہنچانے کے لیے بات کرے، سلامتی کے حصول کے لیے خاموش رہے، بات سمجھنے کے لیے میل جول رکھے، اگر وہ غافلین میں سے ہو تو ذاکرین میں سے شمار کیا جائے اور اگر ذاکرین میں سے ہو تو غافلین میں شمار نہ کیا جائے، اس لیے کہ لوگوں کی غفلت کے وقت ذکر کرتا ہو اور جب لوگ ذکر کریں اس وقت بھی اپنے رب کو نہ بھولے۔ ابن عتیبہ نے اس میں اضافہ کیا ہے کہ وہ علم کو بردباری کے ساتھ ملائے، فنا ہونے والی چیزوں میں اس کی بےرغبتی ان چیزوں میں رغبت جیسی ہو جو باقی رہنے والی ہیں۔