(۳۶۵۶۳) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الْمِنْہَالِ ، عَنْ خَیْثَمَۃ ، عَنْ سُوَیْد بْنِ غَفَلَۃَ ، قَالَ : إذَا أَرَادَ اللَّہُ أَنْ یَنْسَی أَہْلُ النَّارِ جُعِلَ لِکُلِّ إنْسَانٍ مِنْہُمْ تَابُوتًا مِنْ نَارٍ عَلَی قَدْرِہِ ، ثُمَّ أُقْفِلَ عَلَیْہِ بِأَقْفَالٍ مِنْ نَارٍ فَلاَ یُضْرَبُ مِنْہُ عِرْقٌ إِلاَّ وَفِیہِ مِسْمَارٌ مِنْ نَارٍ ، ثُمَّ جُعِلَ ذَلِکَ التَّابُوتُ فِی تَابُوتٍ آخَرَ مِنْ نَارٍ ، ثُمَّ أُقْفِلَ عَلَیْہِ بِأَقْفَالٍ مِنْ نَارٍ ، ثُمَّ یُضْرَمُ بَیْنَہُمَا نَارٌ ، فَلاَ یَرَی أَحَدٌ مِنْہُمْ ، أَنَّ فِی النَّارِ أَحَدًا غَیْرَہُ ، فَذَلِکَ قولہ تعالی : {لَہُمْ مِنْ فَوْقِہِمْ ظُلَلٌ مِنَ النَّارِ وَمِنْ تَحْتِہِمْ ظُلَلٌ} وَذَلِکَ قولہ تعالی : {لَہُمْ مِنْ جَہَنَّمَ مِہَادٌ وَمِنْ فَوْقِہِمْ غَوَاشٍ وَکَذَلِکَ نَجْزِی الظَّالِمِینَ}۔
(٣٦٥٦٣) حضرت سوید بن غفلہ فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ اہل جہنم کو بھلائے جانے کا ارادہ فرمائیں گے ہر ایک کے لیے اس کی جسامت کے بقدر ایک تابوت بنائیں گے پھر اس پر تالا لگا دیا جائے گا۔ اس تابوت میں آگ کے کیل ہوں گے۔ پھر اس تابوت کو آگ کے دوسرے تابوت میں ڈال دیا جائے گا۔ پھر اس پر آگ کے مزید تالے لگادیئے جائیں گے۔ پھر ان کے درمیان آگ بھڑکا دی جائے گی۔ پھر ہر شخص یہ سمجھے گا کہ آگ میں اس کے سوا کوئی نہیں ہے۔ اللہ رب العزت کے اس فرمان کا یہی مطلب ہے { لَہُمْ مِنْ فَوْقِہِمْ ظُلَلٌ مِنَ النَّارِ وَمِنْ تَحْتِہِمْ ظُلَلٌ} اور یہی مطلب ہے اس ارشاد ربانی کا { لَہُمْ مِنْ جَہَنَّمَ مِہَادٌ وَمِنْ فَوْقِہِمْ غَوَاشٍ وَکَذَلِکَ نَجْزِی الظَّالِمِینَ }۔