(۳۶۵۷۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا مُوسَی بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ ، قَالَ : کَانَ سَعِیدُ بْنُ عامر بْنِ حُذَیْمٍ أَمِیرًا عَلَی مِصْرَ فَبَلَغَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، أَنَّہُ یَأْتِی عَلَیْہِ حِینٌ لاَ یُدَخَّنُ فِی تَنُّورِہِ ، فَبَعَثَ إلَیْہِ بِمَالٍ فَاشْتَرَی مَا یُصْلِحُہُ وَأَہْلَہُ ، ثُمَّ قَالَ لاِمْرَأَتِہِ : لَوْ أَنَّا أَعْطَیْنَاہَا تَاجِرًا لَعَلَّہُ أَنْ یُصِیبَ لَنَا فِیہَا، قَالَتْ : فَافْعَلْ قَالَ : فَتَصَدَّقَ بِہَا الرَّجُلُ وَأَعْطَاہَا حَتَّی لَمْ یَبْقَ مِنْہَا شَیْئٌ ، ثُمَّ احْتَاجُوا ، فَقَالَتْ لَہُ امْرَأَتُہُ : لَوْ أَنَّک نَظَرْت إِلَی تِلْکَ الدَّرَاہِمِ فَأَخَذْتہَا فَإِنَّا قَدَ احْتَجْنَا إلَیْہَا ، فَأَعْرَضَ عنہا ، ثُمَّ عَادَتْ ، فَقَالَتْ أَیْضًا ، فَأَعْرَضَ عنہا حَتَّی اسْتَبَانَ لَہَا ، أَنَّہُ قَدْ أَمْضَاہَا ، قَالَ : فَجَعَلَتْ تَلُومُہُ ، قَالَ : فَاسْتَعَانَ عَلَیْہَا بِخَالِدِ بْنِ الْوَلِیدِ فَکَلَّمَہَا ، فَقَالَ : إنَّک قَدْ آذَیْتہ فَکَأَنَّمَا أغراہا بِہِ ، فَقَالَتْ لَہُ أَیْضًا ، فَلَمَّا رَأَی ذَلِکَ الرَّجُلُ بَرَکَ عَلَی رُکْبَتَیْہِ ، فَقَالَ : مَا یَسُرُّنِی أَنْ أُحْبَسَ عَنِ الَعَنَق الأَوَّلِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ، وَلا أَنَّ لِی مَا ظَہَرَ عَلَی الأَرْضِ ، وَلَوْ أَنْ خَیِّرَۃ مِنَ الْخَیِّرَاتِ أَبْرَزَتْ أَصَابِعَہَا لأَہْلِ الأَرْضِ مِنْ فَوْقِ السَّمَاوَاتِ لَوُجِدَ رِیحُہُنَّ فَأَنَا أَدَعُہُنَّ لَکُنَّ لأَنْ أَدَعَکُنَّ لَہُنَّ أَحْرَی مِنْ أَنْ أَدَعَہُنَّ لَکُنَّ ، فَلَمَّا رَأَتْ ذَلِکَ کَفَّتْ عَنْہُ۔ (ابو نعیم ۲۴۴)
(٣٦٥٧٩) حضرت عبد الرحمن بن سابط فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن عامر بن حذیم مصر کے امیر تھے۔ حضرت عمر بن خطاب (رض) کو ان کے بارے میں معلوم ہوا کہ ان پر بعض اوقات ایسے بھی آتے ہیں کہ ان کا چولہا نہیں جلتا۔ حضرت عمر (رض) نے ان کے اور ان کے اہل و عیال کی کفالت کے لیے کچھ مال بھیجا۔ حضرت سعید بن عامر (رض) نے اپنی اہلیہ سے فرمایا کہ کیوں نہ ہم یہ مال ایسے تاجر کو دے دیں جو اس میں ہمارے لیے نفع کمائے ؟ ان کی اہلیہ نے فرمایا کہ آپ ایسا کرلیجئے۔ پھر آپ نے وہ مال صدقہ کردیا اور اپنے پاس کچھ بھی باقی نہ چھوڑا۔ پھر کچھ عرصے بعد انھیں احتیاج ہوئی اور مال کی ضرورت پڑی تو ان کی بیوی نے کہا کہ اگر آپ ان دراہم میں سے کچھ اپنے پاس رکھ چھوڑتے تو اچھا ہوتا آج ہمیں ان کی ضرورت ہے۔ حضرت سعید بن عامر (رض) نے ان کی بات پر توجہ نہ دی۔ ان کی اہلیہ نے پھر وہی بات دہرائی ، انھوں نے پھر اعراض کیا۔ پھر جب انھوں نے دیکھا کہ توجہ نہیں کررہے تو انھیں ملامت کرنے لگیں۔ حضرت سعید بن عامر (رض) نے حضرت خالد بن ولید (رض) سے مدد چاہی۔ حضرت خالد بن ولید (رض) نے ان سے بات کی اور فرمایا کہ تم نے حضرت سعید کو تکلیف پہنچائی ہے۔ حضرت سعید کی اہلیہ نے ان سے بھی یہی بات فرمائی۔ جب اس آدمی کو یہ بات معلوم ہوئی جس کو دراہم حاصل ہوئے تھے تو وہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور کہنے لگا کہ مجھے یہ بات بالکل پسند نہیں کہ قیامت کے دن مجھے پہلی جماعت میں داخل ہونے سے روک لیا جائے جبکہ اس کے بدلے میں مجھے دنیا کی ہر چیز ہی کیوں نہ مل جائے۔ اور اگر ایک حور اپنی انگلیاں زمین والوں کے لیے ظاہر کردے تو ان کی خوشبو سب کو محسوس ہوگی۔