(۳۶۵۹۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ، عَنْ طَلْحَۃَ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : إذَا الْتَقَی الرَّجُلُ الرَّجُلَ فَضَحِکَ فِی وَجْہِہِ تَحَاتَّتْ عَنْہُمَا الذُّنُوبُ کَمَا یَنْثُرُ الرِّیحُ الْوَرَقَ الْیَابِسَ مِنَ الشَّجَرِ ، قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ إنَّ ہَذَا مِنَ الْعَمَلِ یَسِیرٌ ، قَالَ : فَقَالَ : مَا سَمِعْت قولہ تعالی : {لَوْ أَنْفَقْتَ مَا فِی الأَرْضِ جَمِیعًا مَا أَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوبِہِمْ}۔
(٣٦٥٩٨) حضرت مجاہد کا ارشاد ہے کہ جب کوئی آدمی دوسرے کو مل کر مسکراتا ہے تو اس کے گناہ ایسے ہی جھڑ جاتے ہیں کہ جیسے ہوا خشک پتوں کو جھاڑ دیتی ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ کسی نے سوال کیا کہ یہ تو بہت چھوٹا سا عمل ہے۔ تو انھوں نے جواب دیا کہ کیا تو نے اللہ تعالیٰ کا ارشاد نہیں سنا : { لَوْ أَنْفَقْتَ مَا فِی الأَرْضِ جَمِیعًا مَا أَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوبِہِمْ } کہ اگر آپ روئے زمین کی تمام اشیاء بھی صرف کردیتے تو ان میں آپس میں الفت نہ پیدا کرسکتے۔