(۳۶۶۵۹) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ زِیَادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ الرَّبِیعِ بْنِ خُثَیْمٍ قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عُبَیْدَۃَ بْنُ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : کَانَ الرَّبِیعُ بْنُ خُثَیْمٍ إذَا دَخَلَ عَلَی عَبْدِ اللہِ لَمْ یَکُنْ عَلَیْہِ یَوْمَئِذٍ إذْنٌ حَتَّی یَفْرُغَ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا مِنْ صَاحِبِہِ ، قَالَ : وَقَالَ لَہُ عَبْدُ اللہِ یَا أَبَا یَزِیدَ ، إنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَوْ رَآک أَحَبَّک ، وَمَا رَأَیْتُک إِلاَّ ذَکَرْت الْمُخْبِتِینَ۔ (احمد ۴۰۸۔ ابو نعیم ۱۰۶)
(٣٦٦٥٩) حضرت ابوعبید بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ ربیع بن خثیم جب عبداللہ کے پاس آتے تو کسی کو ان کے پاس جانے کی اجازت نہ ہوتی تھی تاوقتیکہ وہ دونوں ایک دوسرے سے فارغ ہوجائیں۔ ابوعبیدہ کہتے ہیں کہ ان کو عبداللہ نے کہا کہ اے ابویزید اگر رسول اللہ آپ کو دیکھتے تو آپ سے محبت کرتے اور میں نے آپ کو عاجزین کا ذکر کرتے ہی دیکھا ہے۔