(۳۶۶۶۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ، عَنْ طَلْحَۃَ ، قَالَ : قِیلَ مَنِ الَّذِی یَسْمَنُ فِی الْخِصْبِ وَالْجَدْبِ ، وَمَنَ الَّذِی یَہْزَلُ فِی الْخِصْبِ وَالْجَدْبِ ، وَمَنَ الَّذِی ہُوَ أَحْلَی مِنَ الْعَسَلِ ، وَلاَ یَنْقَطِعُ ، قَالَ : أَمَّا الَّذِی یَسْمَنُ فِی الْخِصْبِ وَالْجَدْبِ فَالْمُؤْمِنُ الَّذِی إنْ أُعْطِیَ شَکَرَ ، وَإِنَ ابْتُلِیَ صَبَرَ ، وَأَمَّا الَّذِی یَہْزَلُ فِی الْخِصْبِ وَالْجَدْبِ فَالْکَافِرُ ، أَوِ الْفَاجِرُ إنْ أُعْطِیَ لَمْ یَشْکُرْ ، وَإِنَ ابْتُلِیَ لَمْ یَصْبِرْ ، وَأَمَّا الَّذِی ہُوَ أَحْلَی مِنَ الْعَسَلِ ، وَلاَ یَنْقَطِعُ فَہِیَ أُلْفَۃُ اللہِ الَّتِی أَلَّفَ بَیْنَ قُلُوبِ الْمُؤْمِنِینَ۔
(٣٦٦٦٠) حضرت طلحہ سے سوال کیا گیا کہ وہ کون سی چیز ہے جو قحط اور فراوانی دونوں حالتوں میں پھلتی پھولتی ہے ؟ اور وہ کون سی شے ہے جو قحط اور فراوانی دونوں صورتوں میں سوکھ جاتی ہے ؟ اور وہ کون سی چیز ہے جو شہد سے بھی میٹھی ہے اور کبھی ختم نہیں ہوتی ؟ تو انھوں نے جواب دیا کہ وہ چیز جو قحط اور فراوانی دونوں صورتوں میں پھلتی اور پھولتی ہے وہ مومن ہے کہ اگر اس کو مل جائے تو شکر کرتا ہے اور اگر آزمائش میں پڑجائے تو صبر کرتا ہے اور وہ چیز جو قحط اور فراوانی دونوں صورتوں میں سوکھ جاتی ہے وہ کافر ہے یا گناہ گار شخص ہے کہ جس کو دیا جائے تو شکر نہیں کرتا اور اگر آزمائش میں پڑجائے تو صبر نہیں کرتا۔ اور وہ چیز جو شہد سے بھی زیادہ میٹھی اور کبھی ختم نہ ہونے والی ہے اللہ تعالیٰ کی الفت ہے جس نے تمام مومنین کے دلوں میں محبت پیدا کردی ہے۔