(۳۶۶۶۲) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِی ثَامِرٍ زَعَمَ أَنَّ امْرَأَۃً ، قَالَتْ : وَاللہِ لاَ یُعَذِّبُنِی اللَّہُ أَبَدًا مَا سَرَقْت ، وَلاَ زَنَیْت ، وَلاَ قَتَلْت وَلَدِی ، وَلاَ أَتَیْتُ بِبُہْتَانٍ یَفْتَرِینَہُ بَیْنَ أَیْدِیہِنَّ وَأَرْجُلِہِنَ ، فَرَأَتْ فِی الْمَنَامِ ، أَنَّہُ قِیلَ لَہَا : قَوْمِی إِلَی مَقْعَدِکَ مِنَ النَّارِ یَا مُقَلِّلَۃَ الْکَثِیرِ مُکْثِرَۃَ الْقَلِیلِ ، وَآکِلَۃَ لَحْمِ الْجَارِ الْغَرِیبِ بِالْغَیْبِ ، قَالَتْ : یَا رَبِ ، بَلْ أَتُوبُ بَلْ أَتُوبُ۔
(٣٦٦٦٢) حضرت ابوثامر فرماتے ہیں کہ غالباً کسی عورت نے یہ دعویٰ کیا کہ اللہ تعالیٰ مجھے عذاب نہیں دیں گے کیونکہ میں نے نہ کبھی چوری کی اور نہ ہی کبھی زنا کیا اور نہ ہی کبھی میں نے اپنی اولاد کو قتل کیا اور نہ میں نے کوئی اپنی طرف سے الزام تراشا ہے تو اس نے خواب میں دیکھا کہ اس سے کہا جا رہا ہے کہ ” اٹھ اور اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے اے کم کو زیادہ اور زیادہ کو کم کرنے والی، اے پوشیدہ طور پر غریب پڑوسی کا گوشت کھانے والی، تو اس نے عرض کی کہ اے میرے رب بلکہ میں رجوع کرتی ہوں، میں رجوع کرتی ہوں۔