hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 36673

.

ابن أبي شيبة

36673
Ibn Abi Shaybah
(۳۶۶۷۴) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ مَوْلَی أَبِی أُسَیْدَ ، قَالَ : کَانَ عُمَرُ إذَا صَلَّی أَخْرَجَ النَّاسَ مِنَ الْمَسْجِدِ فَأَخَذَ إلَیْنَا ، فَلَمَّا رَأَی أَصْحَابَہُ أَلْقَی الدِّرَّۃَ وَجَلَسَ ، فَقَالَ : ادْعُوا ، فَدَعَوْا ، قَالَ : فَجَعَلَ یَدْعُو وَیَدْعُو حَتَّی انْتَہَتِ الدَّعْوَۃُ إلَی ، فَدَعَوْت وَأَنَا مَمْلُوک ، فَرَأَیْتہ دَعَا وَبَکَی بُکَائً لاَ تَبْکِیہ الثَّکْلَی ، فَقُلْتُ فِی نَفْسِی : ہَذَا الَّذِی تَقُولُونَ کم ہو غَلِیظٌ۔
(٣٦٦٧٤) حضرت ابو اسید کے مولی ابوسعید سے منقول ہے کہ عمر نے جب نماز پڑھ لی تو لوگوں کو مسجد سے نکال دیا اور ہماری طرف کو چل پڑے۔ جب اپنے ساتھیوں کو دیکھا تو ” درۃ “ کو رکھا اور بیٹھ گئے، فرمانے لگے کہ دعا کرو تو وہ سب لوگ دعا کرنے لگے۔ پھر وہ باری باری دعا کرنے لگے۔ یہاں تک کہ دعا کی میری باری آگئی اور میں نے بھی دعا کی اور میں اس وقت غلام تھا۔ میں نے عمر (رض) کو دیکھا کہ انھوں نے دعا مانگی اور اتنا روئے کہ کوئی عورت جس کا بچہ گم ہوگیا ہو وہ بھی اتنا نہیں روتی۔ میں نے اپنے جی میں سوچا کہ ” کیا یہی وہ شخص ہے کہ جس کے بارے میں لوگ کہتے ہیں کہ بہت غصہ والا ہے۔