(۳۶۶۷۵) حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَکٍ ، عَنِ الرَّبِیعِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِی دَاوُدَ ، عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ، قَالَ : عَلَیْکُمْ بِالسَّبِیلِ وَالسُّنَّۃِ ، فَإِنَّہُ لَیْسَ مِنْ عَبْدٍ عَلَی سَبِیلٍ وَسُنَّۃٍ ذَکَرَ الرَّحْمَن فَفَاضَتْ عَیْنَاہُ مِنْ خَشْیَۃِ اللہِ فَمَسَّتْہُ النَّارُ أَبَدًا، وَلَیْسَ مِنْ عَبْدٍ عَلَی سَبِیلٍ وَسُنَّۃٍ ذَکَرَ اللَّہَ فَاقْشَعَرَّ جِلْدُہُ مِنْ خَشْیَۃِ اللہِ إِلاَّ کَانَ مَثَلُہُ کَمَثَلِ شَجَرَۃٍ یَبِسَ وَرِقُہَا فَہِیَ کَذَلِکَ إذْ أَصَابَتْہَا رِیحٌ فَتَحَاتَّ وَرَقُہَا عنہا إِلاَّ تَحَاتَّتْ خَطَایَاہُ کَمَا یَتَحَاتُّ عن ہَذِہِ الشَّجَرَۃِ وَرِقُہَا ، وَإِنَّ اقْتِصَادًا فِی سُنَّۃٍ وَسَبِیلٍ خَیْرٌ مِنِ اجْتِہَادٍ فِی غَیْرِ سُنَّۃٍ وَسَبِیلٍ ، فَانْظُرُوا أَعْمَالَکُمْ ، فَإِنْ کَانَتِ اقْتِصَادًا وَاجْتِہَادًا أَنْ تَکُونَ عَلَی مِنْہَاجِ الأَنْبِیَائِ وَسُنَّتِہِمْ۔ (ابو نعیم ۲۵۲)
(٣٦٦٧٥) حضرت ابی بن کعب کا ارشاد ہے کہ تم پر سنت اور درست راستہ کو اختیار کرنا ضروری ہے۔ اس لیے کہ کوئی شخص بھی ایسا نہیں کہ جو سنت اور درست راستہ پر ہو اور اس کی خشیت الٰہی کی وجہ سے آنکھیں بہہ پڑیں پھر اس کو جہنم کی آگ چھوئے۔ اور کوئی بھی شخص ایسا نہیں جو سنت اور درست راہ پر ہو اور اس کی کھال اللہ کے خوف سے کانپ اٹھے مگر اس کی مثال ایسے درخت کی سی ہے کہ جو خشک ہوچکا تھا اور وہ اسی حالت میں تھا کہ اچانک ہوا چلی اور اس کے پتے کے پتے اس سے جھڑ کر گرگئے۔ اسی طرح اس کے بھی صرف گناہ اسی طرح جھڑ جاتے ہیں۔ سنت اور درست راستہ میں میانہ روی بہتر ہے سنت اور درست راستہ کے علاوہ میں جدوجہد کرنے سے بس تم اپنے اعمال کا جائزہ لو اگر ان میں میانہ روی اور مجاہدہ موجود ہے تو یہ اعمال انبیاء اور ان کی سنت پر ہی ہیں۔