(۳۶۷۰۰) حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ الرَّبِیعِ بْنِ خُثَیْمٍ ، عَنْ نُسَیْرٍ ، عَنْ بَکْرِ بْنِ مَاعِزٍ ، قَالَ : جَائَتْ بِنْتُ الرَّبِیعِ بْنِ خُثَیْمٍ ، وَعِنْدَہُ أَصْحَابٌ لَہُ ، فَقَالَتْ : یَا أَبَتَاہُ أَذْہَبُ أَلْعَبُ ، قَالَ : لاَ ، فَقَالَ لَہُ أَصْحَابُہُ : یَا أَبَا یَزِیدَ ، اتْرُکْہَا ، قَالَ : لاَ یُوجَدُ فِی صَحِیفَتِی أَنِّی قُلْتُ لَہَا : اذْہَبِی الْعَبِی ، لَکِنَ اذْہَبِی فَقَوْلِی خَیْرًا وَافْعَلِی خَیْرًا۔
(٣٦٧٠٠) حضرت بکر بن ماعز (رض) فرماتے ہیں کہ ربیع بنت خثیم کی بیٹی آئی جس وقت ان کے پاس ساتھی بیٹھے ہوئے تھے تو اس نے پوچھا کہ اے ابا جان ! میں کھیلنے چلی جاؤں تو انھوں نے فرمایا کہ نہیں۔ ان کے ساتھیوں نے ان سے عرض کیا کہ اے ابویزید اس کو جانے دیجیے تو انھوں نے جواب دیا کہ میں نے اپنے صحیفہ میں یہ نہیں دیکھا کہ اس سے کہا گیا ہو کہ جا اور کھیل بلکہ اس میں ہے کہ جا اور اچھی بات کہہ اور اچھا کام کر۔