(۳۶۷۰۱) حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ ، عَنْ نُسَیْرٍ ، عَنْ بَکْرٍ ، قَالَ : کَانَ الرَّبِیعُ یَقُولُ : یَا بَکْرُ بْنُ مَاعِزٍ یَا بَکْرُ اخْزُنْ عَلَیْک لِسَانَک إِلاَّ مِمَّا لَک ، وَلاَ عَلَیْک ، إِنِّی اتَّہَمْت النَّاسَ فِی دِینِی ، أَطِعَ اللَّہَ فِیمَا عَلِمْت ، وَمَا اسْتُؤْثِرَ بِہِ عَلَیْک فَکِلْہُ إِلَی عَالمِہِ ، لأَنَّا فِی الْعَمْدِ أَخْوَفُ مِنِّی عَلَیْکُمْ فِی الْخَطَأ ، مَا خَیْرُکُمَ الْیَوْمَ بِخَیْرِہِ ، وَلَکِنَّہُ خَیْرٌ مِنْ آخِرِ شَرٍّ مِنْہُ ، مَا کُلُّ مَا أَنْزَلَ اللَّہُ عَلَی مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَدْرَکْتُمْ ، وَلاَ کُلُّ مَا تَقْرَؤُونَ تَدْرُونَ مَا ہُوَ ، السَّرَائِرُ الَّتِی یخفینَ مِنَ النَّاسِ وَہُنَّ لِلَّہِ بَوَادٍ ، الْتَمِسُوا دَوَائَہَا ، ثُمَّ یَقُولُ لِنَفْسِہِ : وَمَا دَوَائَہَا أَنْ تَتُوبَ إِلَی اللہِ ، ثُمَّ لاَ تَعُودَ۔
(٣٦٧٠١) حضرت ربیع فرماتے تھے کہ اے بکر بن ماعز ! اپنی زبان کو مفید کاموں میں استعمال کرو۔ نقصان دہ باتوں سے بچو۔ میں لوگوں کو اپنی دین داری کے بارے میں لاعلم سمجھتا ہوں۔ ان چیزوں میں اللہ کی اطاعت کرو جنھیں تم جانتے ہو۔ جو بات تم تک پہنچے اسے اس کے جاننے والے پر موقوف کرو۔ اس لیے کہ جان بوجھ کر غلطی کرنا خطا سے زیادہ خطرناک ہے۔ تمہاری ہر چیز خیر نہیں بلکہ شر سے بہتر ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دی جانے والی تمام باتیں تم تک نہیں پہنچیں اور وہ سب کچھ جو تم پڑھتے ہو سمجھتے نہیں ہو۔ جو چیزیں لوگوں کے لیے پوشیدہ ہیں لوگوں کے لیے ظاہر ہیں۔ ان کا علاج ڈھونڈو پھر اپنے آپ سے خطاب کر کے فرماتے کہ اس کی دوا یہ ہے کہ اللہ کے دربار میں توبہ کرو اور پھر گناہ نہ کرو۔