(۳۶۷۰۲) حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ ، عَنْ نُسَیْرِ بْنِ ذُعْلُوقٍ ، عَنْ بَکْرٍ ، قَالَ : لَمَّا انْتَہَی الرَّبِیعُ بْنُ خُثَیْمٍ إِلَی مَسْجِدِ قَوْمِہِ ، قَالُوا : لَہُ : یَا رَبِیعُ ، لَوْ قَعَدْت فَحَدِّثْنَا الْیَوْمَ ، قَالَ : فَقَعَدَ فَجَائَ حَجَرٌ فَشَجَّہُ ، فَقَالَ : {فَمَنْ جَائَہُ مَوْعِظَۃٌ مِنْ رَبِّہِ فَانْتَہَی فَلَہُ مَا سَلَفَ}۔
(٣٦٧٠٢) حضرت بکر فرماتے ہیں کہ جب ربیع بن خثیم اپنی قوم کی مسجد میں گئے تو ان کو لوگوں نے کہا کہ اے ربیع آج ہمارے پاس بیٹھ کر بات چیت کرو۔ بکر فرماتے ہیں کہ ربیع ان کے پاس بیٹھے تو کسی جگہ سے پتھر آیا اور اس نے ان کا سر زخمی کردیا تو انھوں نے فرمایا کہ { فَمَنْ جَائَہُ مَوْعِظَۃٌ مِنْ رَبِّہِ فَانْتَہَی فَلَہُ مَا سَلَفَ } کہ جس شخص کے پاس اپنے رب کی طرف سے نصیحت آگئی پھر وہ رک گیا۔