(۳۶۷۳۰) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی إبْرَاہِیمُ عَنِ الرَّبِیعِ بْنِ أَبِی رَاشِدٍ ، قَالَ : کَانَ أَبِی مُعْجَبًا بِخَلَفِ بْنِ حَوْشَبٍ ، قَالَ : قُلْتُ لَہُ : یَا أَبَتِ : إنَّک لَتَعْجَبُ بِہَذَا الرَّجُلِ ، فَقَالَ : یَا بُنَیَّ ، إِنَّہُ نَشَأَ عَلَی طَرِیقَۃٍ حَسَنَۃٍ فَلَمْ یَزَلْ عَلَیْہَا ، قَالَ : وَکَانَ تَکَنَّی أَبَا مَرْزُوقٍ : فَقَالَ لَہُ رَبِیعٌ : حَوِّلْہَا ، قَالَ : فَقَالَ خَلْفٌ : فَاکْنِنِّی ، قَالَ : أَنْتَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ۔
(٣٦٧٣٠) حضرت ربیع بن ابی راشد (رض) فرماتے ہیں کہ میرے والد محترم خلف بن حوشب پر بہت تعجب کرتے تھے۔ میں نے ان سے عرض کیا کہ اے ابا جان آپ اس شخص پر تعجب کرتے ہیں ؟ تو انھوں نے جواب دیا کہ اے میرے بیٹے یہ شخص اچھے راستے پر چلا اور اسی پر قائم رہا۔ ابی راشد فرماتے ہیں کہ اس وقت ان کی کنیت ابومرزوق تھی تو ان کو ربیع (رض) نے کہا کہ آپ اس کنیت کو تبدیل کرلیں۔ ابی راشد کہتے ہیں کہ خلف (رض) نے ان سے کہا کہ پھر آپ ہی مجھے کوئی کنیت دے دیجیے تو انھوں نے کہا آپ ابوعبدالرحمن ہیں۔