(۳۶۷۶۴) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ ، عَنْ ضَمْرَۃَ ، أَنَّ أَبَا رَیْحَانَۃَ مَرَّ بِحِمْصٍ وَأَہْلُہَا یَقْتَسِمُونَہَا بَیْنَہُمْ ، فَسَمِعَ ضَوْضَاء ، فَقَالَ : مَا ہَذَا الضَوْضَائَ ؟ قَالَ : حِمْص یَقْتَسِمُہَا أَہْلَہَا بَیْنَہُم فَقَالَ : اللَّہُمَّ لاَ تَجْعَلْہَا عَلَیْہِمْ فِتْنَۃً ، فَمَا زَالَ یُرَدِّدُہَا حَتَّی لَمْ یُدْرَ مَتَی انْقَطَعَ صَوْتُہُ۔
(٣٦٧٦٤) حضرت ضمرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ابوریحانہ (رض) ایک مرتبہ ایک غلہ کے قریب سے گزرے جسے غلے والے آپس میں تقسیم کررہے تھے۔ انھوں نے شور کی آواز سنی تو پوچھا کہ یہ شور کیسا ہے ؟ تو جواب دیا کہ یہ غلہ ہے جس کو غلے والے آپس میں تقسیم کررہے ہیں۔ تو انھوں نے دعا کی کہ اے اللہ ! اس غلہ کو ان کے لیے آزمائش نہ بنا اور اسی کو بار بار کہتے رہے۔ یہاں تک کہ نامعلوم کب ان کی آواز ختم ہوئی۔