(۳۶۷۹۳) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ أَبِی ہِلاَلٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَفْصُ الضُّبَعِی ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ بْنُ أَبِی مُلَیْکَۃَ : قَالَ عُمَرُ : یَا کعب حَدِّثْنَا عَنِ الْمَوْتِ ، قَالَ : نَعَمْ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، غُصْنٌ کَثِیرُ الشَّوْکِ أُدْخِلَ فِی جَوْفِ رَجُلٍ فَأَخَذَتْ کُلُّ شَوْکَۃٍ بِعِرْقٍ ، ثُمَّ جَذَبَہُ رَجُلٌ شَدِیدُ الْجَذْبِ فَأَخَذَ مَا أَخَذَ وَأَبْقَی مَا أَبْقَی۔
(٣٦٧٩٣) حضرت عمر (رض) نے کعب (رض) سے عرض کی کہ اے کعب ہمیں موت کے بارے میں کچھ بتائیں تو انھوں نے جواب دیا کہ کیوں نہیں اے امیر المومنین ! یہ تو ٹہنی کی مثل ہے کہ جس کے بہت سے کانٹے ہوں جس کو کسی آدمی کے پیٹ میں داخل کردیا جائے اور ہر کانٹا رگ میں پیوست ہوجائے۔ پھر کوئی آدمی اس کو زور سے کھینچے اور جو نکال لے وہ تو نکال لے اور جو رہ جائے وہ رہ جائے۔