(۳۶۸۷۰) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ رُسْتُمَ، عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ، قَالَ: صَحِبْت ابْنَ عَبَّاسٍ مِنْ مَکَّۃَ إِلَی الْمَدِینَۃِ وَمِنَ الْمَدِینَۃِ إِلَی مَکَّۃَ ، فَکَانَ إذَا نَزَلَ مَنْزِلاً قَامَ شَطْرَ اللَّیْلِ فَأَکْثَرَ فِی ذَلِکَ النَّشِیجَ ، قُلْتُ: وَمَا النَّشِیجُ ، قَالَ : النَّحِیبُ وَالْبُکَائُ ، وَیَقْرَأُ : {وَجَائَتْ سَکْرَۃُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذَلِکَ مَا کُنْت مِنْہُ تَحِیدُ}۔
(٣٦٨٧٠) حضرت ابن ابی ملیکہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عباس کے ساتھ مکہ سے مدینہ اور مدینہ سے مکہ کا سفر کیا ہے۔ ابن عباس جب بھی کسی جگہ پڑاؤ کرتے تو رات کو قیام فرماتے اور اس میں بہت روتے۔ میں نے سوال کیا کہ یہ آواز کیسی ہوتی تھی ؟ جواب دیا کہ رونے، دھونے کی آواز ہوتی تھی اور قرآن پاک کی آیت { وَجَائَتْ سَکْرَۃُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذَلِکَ مَا کُنْت مِنْہُ تَحِیدُ } تلاوت فرمایا کرتے تھے۔