hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 36876

.

ابن أبي شيبة

36876
Ibn Abi Shaybah
(۳۶۸۷۷) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : إِنَّ ثَلاَثَۃَ عُلَمَائَ اجْتَمَعُوا فَقَالُوا لأَحَدِہِمْ : مَا أَمَلُکَ ؟ قَالَ : مَّا یَأْتِی عَلَیَّ شَہْرٌ إِلاَّ ظَنَنْت أَنِّی أَمُوتُ فِیہِ ، قَالُوا : إنَّ ہَذَا الأَمَلَ ، فَقَالُوا لِلآخَرِ : مَا أَمَلُک ، قَالَ : مَا تَأْتِی عَلَیَّ جُمُعَۃٌ إِلاَّ ظَنَنْت أَنِّی أَمُوتُ فِیہَا ، قَالُوا لِلثَّالِثِ : وَمَا أَمَلُک ؟ قَالَ : وَمَا أَمَلُ مَنْ نَفْسُہُ بِیَدِ غَیْرِہِ۔
(٣٦٨٧٧) حضرت حسن (رض) کا ارشاد ہے کہ تین علماء اکٹھے ہوئے تو انھوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ تیری امید کتنی ہے ؟ تو ایک نے جواب دیا کہ میرا خیال ہے کہ میں ایک مہینہ زندہ رہ سکوں پھر مر جاؤں گا۔ تو انھوں نے کہا کہ یہ تو بڑی امید ہے۔ پھر دوسرے سے پوچھا کہ تجھے کتنی امید ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ میرا خیال ہے کہ میں ایک جمعہ تک رہ سکوں گا پھر مر جاؤں گا۔ انھوں نے تیسرے سے سوال کیا کہ تیری کیا امید ہے ؟ تو اس نے جواب دیا کہ اس شخص کو کیا امید ہوسکتی ہے کہ جس کی جان ہی کسی دوسرے کے پاس ہو ؟ “