hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 36978

.

ابن أبي شيبة

36978
Ibn Abi Shaybah
(۳۶۹۷۹) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، قَالَ : قَالَ الْمُغِیرَۃُ بْنُ شُعْبَۃَ : إنَّ أَوَّلَ یَوْمٍ عَرَفْتُ فِیہِ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنِّی أَمْشِی مَعَ أَبِی جَہْلٍ بِمَکَّۃَ ، فَلَقِینَا رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَہُ : یَا أَبَا الْحَکَمِ ، ہَلُمَّ إِلَی اللہِ وَإِلَی رَسُولِہِ وَإِلَی کِتَابِہِ أَدْعُوک إِلَی اللہِ ، فَقَالَ : یَا مُحَمَّدُ ، مَا أَنْتَ بِمُنْتَہٍ عَنْ سَبِّ آلِہَتِنَا ، ہَلْ تُرِیدُ إلاَّ أَنْ نَشْہَدَ أَنْ قَدْ بَلَّغْتَ ، فَنَحْنُ نَشْہَدُ أَنْ قَدْ بَلَّغْتَ ، قَالَ : فَانْصَرَفَ عَنْہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَقْبَلَ عَلَیَّ ، فَقَالَ : وَاللہِ إنِّی لأعْلَمُ ، أَنَّ مَا یَقُولُ حَقٌّ وَلَکِنْ بَنِی قُصَیٍّ ، قَالُوا : فِینَا الْحِجَابَۃُ ، فَقُلْنَا : نَعَمْ ، ثُمَّ قَالُوا : فِینَا الْقِرَی ، فَقُلْنَا : نَعَمْ ، ثُمَّ قَالُوا فِینَا النَّدْوَۃُ ، فَقُلْنَا : نَعَمْ ، ثُمَّ قَالُوا فِینَا السِّقَایَۃُ ، فَقُلْنَا نَعَمْ ، ثُمَّ أَطْعَمُوا وَأَطْعَمْنَا حَتَّی إذَا تَحَاکَّتِ الرُّکَبُ ، قَالُوا : مِنَّا نَبِیٌّ وَاللہِ لاَ أَفْعَلُ۔
(٣٦٩٧٩) حضرت مغیرہ بن شعبہ فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو میں نے اس وقت پہچانا جب میں مکہ میں ابو جہل کے ساتھ چل رہا تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں ملے اور آپ نے ابو جہل سے کہا کہ اے ابو الحکم ! اللہ کی طرف آؤ، اللہ کے رسول کی طرف آؤ اور اللہ کی کتاب کی طرف آؤ، میں تمہیں اللہ کی طرف بلاتا ہوں۔ اس نے جواب دیا اے محمد ! تم ہمارے معبودوں کو برا بھلا کہنے سے باز نہیں آتے ہو۔ اگر تم اس بات کی گواہی چاہتے ہو کہ تم نے پیغام پہنچادیا تو ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ تم نے پیغام پہنچا دیا۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لے گئے تو ابوجہل میری طرف متوجہ ہوا اور کہنے لگا کہ خدا کی قسم ! میں جانتا ہوں کہ جو کچھ یہ کہہ رہے ہیں وہ حق سچ ہے لیکن بنو قصی والوں نے کہا کہ ہم میں کعبہ کی دربانی ہے۔ ہم نے کہا ٹھیک ہے۔ پھر انھوں نے کہا کہ ہم میں حاجیوں کی مہمانی ہے۔ ہم نے کہا کہ ٹھیک ہے۔ پھر انھوں نے کہا کہ ہم میں سرداروں کے بیٹھنے کی جگہ ہے۔ ہم نے کہا ٹھیک ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم میں حاجیوں کو پانی پلانے کا اعزاز ہے۔ ہم نے کہا ٹھیک ہے۔ پھر انھوں نے بھی کھلایا اور ہم نے بھی کھلایا اور اب جب لوگوں کی آمدورفت بڑھ گئی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم میں نبی ہے۔ خدا کی قسم ہم ہرگز اس کو نہیں مانیں گے۔