(۳۷۲۴۵) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ کَثِیرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَعْبٍ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ؛ قِیلَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَنَتَوَضَّأُ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَۃَ ، وَہِیَ بِئْرٌ یُلْقَی فِیہَا الْحِیَضُ وَلُحُومُ الْکِلاَبِ وَالنَّتِنُ ؟ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : الْمَائُ طَہُورٌ ، لاَ یُنَجِّسُہُ شَیْئٌ۔
(٣٧٢٤٥) حضرت ابو سعید خدری روایت کرتے ہیں کہ کسی نے عرض کیا، یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا ہم بیر بضاعہ سے وضو کرسکتے ہیں، حالانکہ وہ ایسا کنواں ہے کہ اس میں حیض (کے کپڑے) ، کُتوں کا گوشت اور گندگی ڈالی جاتی ہے ؟ تو نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : پانی پاک ہوتا ہے اس کو کوئی چیز نجس نہیں کرتی۔