(۳۷۲۸۶) حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَرَّقَ بَیْنَ الْمُتَلاعَنْیْن ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، مَالِی ، فَقَالَ : لاَ مَالَ لَک ، إِنْ کُنْتَ صَادِقًا فَبِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِہَا ، وَإِنْ کُنْت کَاذِبًا فَذَاکَ أَبْعَدُ لَک مِنْہَا۔
- وذُکِرَ أنَّ أبَا حَنِیفَۃَ قَالَ : یَتَزَوَّجَہَا إِذَا أَکْذَّبَ نَفْسَہُ۔
(٣٧٢٨٦) حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو لعان کرنے والوں میں جدائی کردی تو شوہر نے کہا : یا رسول اللہ ! میرا مال ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیرا مال نہیں ہے۔ (اس لیے کہ) اگر تو سچا ہے تو پھر تو نے اس کی فرج کو کس کے عوض حلال سمجھ رکھا تھا ؟ (ظاہر ہے کہ مال ہی کے عوض حلت پیدا ہوئی تھی) اور اگر تو جھوٹا ہے تو پھر بطریقِ اولی تجھے مال نہیں ملے گا۔
اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : جب شوہر اپنی تکذیب کر دے تو عورت سے شادی کرسکتا ہے۔