(۳۷۲۸۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِی سُفْیَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: صُرِعَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ فَرَسٍ لَہُ ، فَوَقَعَ عَلَی جِذْعٍ نَخْلَۃِ ، فَانْفَکَّتْ قَدَمُہُ ، قَالَ : فَدَخَلْنَا عَلَیْہِ نَعُودُہُ وَہُوَ یُصَلِّی فِی مَشْرُبَۃٍ لِعَائِشَۃَ جَالِسًا ، فَصَلَّیْنَا بِصَلاَتِہِ وَنَحْنُ قِیَامٌ ، ثُمَّ دَخَلْنَا عَلَیْہِ مَرَّۃً أُخْرَی وَہُوَ یُصَلِّی جَالِسًا ، فَصَلَّیْنَا بِصَلاَتِہِ وَنَحْنُ قِیَامٌ ، فَأَوْمَأَ إِلَیْنَا أَنَ اجْلِسُوا ، فَلَمَّا صَلَّی ، قَالَ : إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِیُؤْتَمَّ بِہِ ، فَإِذَا صَلَّی قَائِمًا فَصَلُّوا قِیَامًا ، وَإِذَا صَلَّی جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا ، وَلاَ تَقُومُوا وَہُوَ جَالِسٌ کَمَا تَفْعَلُ أَہْلُ فَارِسَ بِعُظَمَائِہَا۔
(٣٧٢٨٩) حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے گھوڑے سے گرپڑے اور کھجور کے تنے پر گرے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قدم مبارک سوج گئے۔ راوی کہتے ہیں : ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عیادت کے لیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاں حاضر ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت عائشہ کے مشربہ میں بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے۔ ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اقتدا میں نماز پڑھی درآنحالیکہ ہم کھڑے تھے پھر ہم دوسری مرتبہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے۔ ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اقتدا میں کھڑے ہو کر نماز پر ھنا شروع کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں بیٹھنے کا اشارہ فرمایا۔ پس جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھ چکے تو ارشاد فرمایا : امام اسی لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے، سو جب وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔ امام بیٹھا ہو تو تم کھڑے نہ ہو جیسا کہ اہل فارس اپنے بڑوں کے ساتھ کرتے ہیں۔