(۳۷۴۳۴) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ وَہْبٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی سُوَائَۃَ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَائِشَۃَ : أَخْبِرِینِی عَنْ خُلُقِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَتْ : أَوَ مَا تَقْرَأُ الْقُرْآنَ ؟ {وَإِنَّک لَعَلَی خُلُقٍ عَظِیمٍ} ، قَالَتْ : کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَعَ أَصْحَابِہِ ، فَصَنَعْتُ لَہُ طَعَامًا ، وَصَنَعَتْ لَہُ حَفْصَۃُ طَعَامًا ، فَسَبَقَتْنِی حَفْصَۃُ ، قَالَتْ : فَقُلْتُ لِلْجَارِیَۃِ : انْطَلِقِی فَأَکْفِئِی قَصْعَتَہَا ، قَالَتْ : فَأَہْوَتْ أَنْ تَضَعَہَا بَیْنَ یَدَیَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَکَفَأَتْہَا ، فَانْکَسَرَتِ الْقَصْعَۃُ ، وَانْتَثَرَ الطَّعَامُ ، قَالَتْ : فَجَمَعَہَا النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَمَا فِیہَا مِنَ الطَّعَامِ عَلَی الأَرْضِ فَأَکَلُوا ، ثُمَّ بَعَثَ بِقَصْعَتِی ، فَدَفَعَہَا النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی حَفْصَۃَ، فَقَالَ: خُذُوا ظَرْفًا مَکَانَ ظَرْفِکُمْ ، وَکُلُوا مَا فِیہَا ، قَالَتْ : فَمَا رَأَیْتُہُ فِی وَجْہِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (ابن ماجہ ۲۳۳۳۔ احمد ۱۱۱)
(٣٧٤٣٤) بنی سواء ہ کے ایک صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ سے کہا۔ مجھے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اخلاق کے متعلق خبر دیجئے ؟ حضرت عائشہ نے فرمایا : کیا تم نے قرآن نہیں پڑھا ؟ { وَإِنَّک لَعَلَی خُلُقٍ عَظِیمٍ } فرمایا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے صحابہ کے ہمراہ تشریف فرما تھے۔ میں نے آپ کے لیے کھانا بنایا اور حضرت حفصہ نے بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے کھانا بنایا۔ حضرت حفصہ نے مجھ سے پہل کرلی۔ فرماتی ہیں کہ میں نے لونڈی سے کہا۔ جاؤ اور حفصہ کا پیالہ الٹ دو ۔ فرماتی ہیں کہ حضرت حفصہ نے لونڈی کو اشارہ کیا کہ پیالہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے رکھ دے۔ پس انھوں نے پیالہ کو الٹ دیا۔ پیالہ ٹوٹ گیا اور کھانا بکھر گیا۔ فرماتی ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پیالہ کو جمع کیا اور جو کچھ اس میں سے زمین پر گرا تھا اس کو بھی اس میں جمع کیا پھر سب نے کھایا۔ پھر میرا پیالہ گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ پیالہ حفصہ کی طرف بھیج دیا اور فرمایا : اپنے برتن کی جگہ یہ برتن لے لو۔ اور جو اس میں ہے اس کو کھالو۔ عائشہ فرماتی ہیں۔ میں نے اس واقعہ (کی وجہ سے) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرہ میں کچھ نہیں دیکھا۔