(۳۷۵۹۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ سَعِیدٍ ؛ أَنَّ الْقَسَامَۃَ کَانَتْ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ ، فَأَقَرَّہَا النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی قَتِیلٍ مِنَ الأَنْصَارِ وُجِدَ فِی جُبِّ الْیَہُودِ ، قَالَ : فَبَدَأَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالْیَہُودِ ، فَکَلَّفَہُمْ قَسَامَۃَ خَمْسِینَ ، فَقَالَتِ الْیَہُودُ : لَنْ نَحْلِفَ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِلأَنْصَارِ : أَفَتَحْلِفُونَ ؟ قَالَتِ الأَنْصَارُ : لَنْ نَحْلِفَ ، فَأَغْرَمَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْیَہُودَ دِیَتَہُ لأَنَّہُ قُتِلَ بَیْنَ أَظْہُرِہِمْ۔
(٣٧٥٩١) حضرت سعید فرماتے ہیں کہ قسامت جاہلیت میں (بھی) تھی پس نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ے اس کو انصار کے ایک اس مقتول کے بارے میں برقرار رکھا جو یہود کے کنویں میں (مقتول) پایا گیا تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہود سے ابتدا کی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں پچاس قسموں کا پابند ٹھہرایا۔ تو یہود نے کہا۔ ہم ہرگز قسم نہیں کھائیں گے۔ پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انصار سے کہا : کیا تم قسم اٹھاؤ گے ؟ انصار نے کہا : ہم ہرگز قسم نہیں کھائیں گے۔ تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس مقتول کی دیت یہود کے ذمہ لگا دی۔ کیونکہ یہ انہی کے درمیان قتل ہوا تھا۔