(۳۷۵۹۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، قَالَ: دَعَانِی عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ، فَسَأَلَنِی عَنِ الْقَسَامَۃِ، فَقَالَ : إِنَّہُ قَدْ بَدَا لِی أَنْ أَرُدَّہَا ، إِنَّ الأَعْرَابِیَّ یَشْہَدُ ، وَالرَّجُلُ الْغَائِبُ یَجِیئُ فَیَشْہَدُ ، فَقُلْتُ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، إِنَّک لَنْ تَسْتَطِیعَ رَدَّہَا ، قَضَی بِہَا النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَالْخُلَفَائُ بَعْدَہُ۔
(٣٧٥٩٢) حضرت زہری فرماتے ہیں کہ مجھے عمر بن عبد العزیز نے بلایا اور مجھ سے قسامت کے بارے میں سوال کیا۔ اور کہا کہ میرا خیال یہ ہو رہا ہے کہ میں اس کو رد کر دوں۔ ایک دیہاتی آ کر گواہی دیتا ہے اور غیر موجود آدمی گواہی دیتا ہے۔ میں نے عرض کیا۔ اے امیر المؤمنین ! آپ اس کو رد نہیں کرسکتے قسامت کے ذریعہ سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ فرمایا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد خلفاء نے (بھی) فیصلہ فرمایا۔