hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 37696

.

ابن أبي شيبة

37696
Ibn Abi Shaybah
(۳۷۶۹۷) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؛ إِنَّہُ لَمْ تَکُنْ قَبِیلَۃٌ مِنَ الْجِنِّ إِلاَّ وَلَہُمْ مَقَاعِدُ لِلسَّمْعِ ، قَالَ : فَکَانَ إِذَا نَزَلَ الْوَحْیُ سَمِعَتِ الْمَلاَئِکَۃُ صَوْتًا کَصَوْتِ الْحَدِیدَۃِ أَلْقَیْتہَا عَلَی الصَّفَا، قَالَ : فَإِذَا سَمِعَتْہُ الْمَلاَئِکَۃُ خَرُّوا سُجَّدًا ، فَلَمْ یَرْفَعُوا رُؤُوسَہُمْ حَتَّی یَنْزِلَ ، فَإِذَا نَزَلَ ، قَالَ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ: مَاذَا قَالَ رَبُّکُمْ ؟ فَإِنْ کَانَ مِمَّا یَکُونُ فِی السَّمَائِ ، قَالُوا : الْحَقَّ وَہُوَ الْعَلِیُّ الْکَبِیرُ ، وَإِنْ کَانَ مِمَّا یَکُونُ فِی الأَرْضِ مِنْ أَمْرِ الْغَیْبِ ، أَوْ مَوْتٍ ، أَوْ شَیْئٍ مِمَّا یَکُونُ فِی الأَرْضِ تَکَلَّمُوا بِہِ ، فَقَالُوا : یَکُونُ کَذَا وَکَذَا ، فَتَسْمَعُہُ الشَّیَاطِینُ ، فَیُنْزِلُونَہُ عَلَی أَوْلِیَائِہِمْ۔ فَلَمَّا بَعَثَ اللَّہُ مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ دُحِرُوا بِالنُّجُومِ ، فَکَانَ أَوَّلَ مَنْ عَلِمَ بِہَا ثَقِیفٌ ، فَکَانَ ذُو الْغَنَمِ مِنْہُمْ یَنْطَلِقُ إِلَی غَنَمِہِ فَیَذْبَحُ کُلَّ یَوْمٍ شَاۃً ، وَذُو الإِبِلِ یَنْحَرُ کُلَّ یَوْمٍ بَعِیرًا ، فَأَسْرَعَ النَّاسُ فِی أَمْوَالِہِمْ ، فَقَالَ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ : لاَ تَفْعَلُوا ، فَإِنْ کَانَتِ النُّجُومُ الَّتِی یُہْتَدِی بِہَا وَإِلاَّ فَإِنَّہُ أَمْرٌ حَدَثَ ، فَنَظَرُوا فَإِذَا النُّجُومُ الَّتِی یُہْتَدِی بِہَا کَمَا ہِی ، لَمْ یُرْمَ مِنْہَا بِشَیْئٍ ، فَکَفُّوا ، وَصَرَفَ اللَّہُ الْجِنَ ، فَسَمِعُوا الْقُرْآنَ ، فَلَمَّا حَضَرُوہُ ، قَالُوا : أَنْصِتُوا ، قَالَ : وَانْطَلَقَتِ الشَّیَاطِینُ إِلَی إِبْلِیسَ فَأَخْبَرُوہُ ، فَقَالَ : ہَذَا حَدَثٌ حَدَثَ فِی الأَرْضِ ، فَأْتُونِی مِنْ کُلِّ أَرْضٍ بِتُرْبَۃٍ ، فَلَمَّا أَتَوْہُ بِتُرْبَۃِ تِہَامَۃَ ، قَالَ : ہَاہُنَا الْحَدَثُ۔
(٣٧٦٩٧) حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ جنات کا کوئی قبیلہ نہیں تھا مگر یہ کہ ان کے لیے (آسمانی باتیں) سُننے کے لیے نشستیں تھیں۔ فرماتے ہیں : پس جب وحی نازل ہوتی تو فرشتے ایسی آواز سنتے جیسے اس لوہے کی آواز ہوتی ہے جس کو آپ صاف پتھر پر پھینکیں۔ فرماتے ہیں : پس جب فرشتے یہ آواز سنتے تو سجدہ میں گرپڑتے۔ وحی کے نازل ہونے تک وہ اپنے سر نہ اٹھاتے۔ پھر جب وحی نازل ہو چکتی تو بعض فرشتے ، بعض فرشتوں سے کہتے۔ تمہارے رب نے کیا کہا ہے ؟ پس اگر وحی کسی آسمانی معاملہ میں ہوتی تو فرشتے کہتے۔ حق کہا ہے اور وہ ذات بلند اور بڑی ہے اور اگر وحی کسی زمینی معاملہ میں۔ غیبی امر یا موت یا کوئی بھی زمینی معاملہ، ہوتی تو فرشتے باہم گفتگو کرتے اور کہتے کہ یوں یوں ہوگا۔ ان باتوں کو شیاطین سُن لیتے اور پھر یہ باتیں اپنے اولیاء (دوستوں) کو آ کر کہتے۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مبعوث فرمایا تو شیاطین کو ستاروں کے ذریعہ ہلاک کیا گیا۔ سب سے پہلے جس کو اس بات کا (ستارے گرنے کا) علم ہوا وہ (قبیلہ) ثقیف تھا۔ پس ان میں سے بکریوں والا اپنی بکریوں کے پاس جاتا اور ہر روز ایک بکری ذبح کردیتا۔ اور اونٹوں والا ہر روز ایک اونٹ ذبح کردیتا۔ پس لوگوں نے اپنے میں جلدی کرنا شروع کی ۔ تو ان میں سے بعض نے بعض سے کہا۔ (ایسا) نہ کرو۔ اگر تو یہ راہنمائی والے ستارے ہیں (تو پھر ٹھیک) وگرنہ یہ کوئی نئے حادثہ کی وجہ سے ہے۔ پس لوگوں نے دیکھا تو راہنمائی والے ستارے تو ویسے ہی تھے۔ ان میں سے کچھ بھی نہیں پھنکاک گیا تھا۔ لوگ رُک گئے۔ اور اللہ تعالیٰ نے جنات کو پھیرا اور انھوں نے قرآن کو سُنا۔ پس جب جنات (تلاوت) قرآن پر حاضر ہوئے تو انھوں نے کہا۔ خاموش ہو جاؤ۔ ابن عباس فرماتے ہیں۔ شیاطین ، ابلیس کے پاس گئے اور جا کر اس کو خبر دی اس نے کہا : زمین میں یہی واقعہ رونما ہوا ہے۔ پس تم میرے پاس ہر زمین کی مٹی لاؤ۔ شیاطین جب ابلیس کے پاس تہامہ کی مٹی لائے تو اس نے کہا ۔ یہیں پر یہ نیا واقعہ رونما ہوا ہے۔