(۳۷۶۹۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إِدْرِیسَ ، وَأَبُو أُسَامَۃَ ، وَغُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ سَلِمَۃَ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ ، قَالَ : قَالَ یَہُودِیٌّ لِصَاحِبِہِ : اذْہَبْ بِنَا إِلَی ہَذَا النَّبِیِّ ، فَقَالَ صَاحِبُہُ : لاَ تَقُلْ نَبِیٌّ ، فَإِنَّہُ لَوْ قَدْ سَمِعَک کَانَ لَہُ أَرْبَعُ أَعْیُنٍ ، قَالَ : فَأَتَیَا رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَسَأَلاَہُ عَنْ تِسْعِ آیَاتٍ بَیِّنَاتٍ ، فَقَالَ : لاَ تُشْرِکُوا بِاللہِ شَیْئًا ، وَلاَ تَزْنُوا ، وَلاَ تَسْرِقُوا ، وَلاَ تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِی حَرَّمَ اللَّہُ إِلاَّ بِالْحَقِ ، وَلاَ تَمْشُوا بِبَرِیئٍ إِلَی ذِی سُلْطَانٍ فَیَقْتُلَہُ ، وَلاَ تَسْحَرُوا ، وَلاَ تَأْکُلُوا الرِّبَا ، وَلاَ تَقْذِفُوا الْمُحْصَنَۃَ ، وَلاَ تُوَلُّوا لِلْفِرَارِ یَوْمَ الزَّحْفِ ، وَعَلَیْکُمْ خَاصَّۃً یَہُودُ : لاَ تَعْدُوا فِی السَّبْتِ ، قَالَ : فَقَبَّلُوا یَدَیْہِ وَرِجْلَیْہِ ، وَقَالُوا : نَشْہَدُ أَنَّک نَبِیٌّ حَقٌ ، قَالَ : فَمَا یَمْنَعُکُمْ أَنْ تَتَّبِعُونِی ؟ قَالُوا : إِنَّ دَاوُدَ دَعَا لاَ یَزَالُ فِی ذُرِّیَّتِہِ نَبِیٌّ ، وَإِنَّا نَخَافُ أَنْ تَقْتُلَنَا یَہُودُ۔ (احمد ۲۳۹۔ حاکم ۱۰)
(٣٧٦٩٨) حضرت صفوان بن عسال روایت کرتے ہیں کہ ایک یہودی نے اپنے ساتھی سے کہا۔ ہمیں اس نبی کے پاس لے چلو ! اس کے ساتھی نے کہا : نہیں ! نبی مت کہو کیونکہ اگر انھوں نے تجھے سُن لیا تو ان کی چار آنکھیں ہوجائیں گی۔ راوی کہتے ہیں : وہ دونوں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نو کھلی نشانیوں کے بارے میں سوال کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور زنا نہ کرو اور چوری نہ کرو اور اس جان کو قتل نہ کرو جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے مگر حق کی وجہ سے ۔ اور کسی قوت والے کے پاس بےگناہ کی چغلی نہ کرو کہ وہ اس بےگناہ کو قتل کر دے اور جادو نہ کرو۔ اور سود نہ کھاؤ۔ اور پاکدامن عورت پر تہمت زنی مت کرو اور جنگ کے دن بھاگنے کے لیے پیٹھ مت پھیرو۔ اور اے خواص یہود تم پر یہ بھی لازم ہے کہ ہفتہ کے دن میں تعدی نہ کرو۔ راوی کہتے ہیں : یہودیوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ، پاؤں چومے اور عرض کرنے لگے۔ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نبی برحق ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم لوگوں کو میری اتباع سے کیا چیز مانع ہے ؟ کہنے لگے : حضرت داؤد نے دعا مانگی تھی کہ ان کی ذریت میں مسلسل نبوت رہے ۔ اور ہمیں اس بات کا خوف ہے کہ ہمیں یہودی قتل کردیں گے۔