hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 37709

.

ابن أبي شيبة

37709
Ibn Abi Shaybah
(۳۷۷۱۰) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إسْرَائِیلُ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِی مَیْسَرَۃَ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ إِذَا بَرَزَ سَمِعَ مَنْ یُنَادِیہِ : یَا مُحَمَّدُ ، فَإِذَا سَمِعَ الصَّوْتَ انْطَلَقَ ہَارِبًا ، فَأَتَی خَدِیجَۃَ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَہَا ، فَقَالَ : یَا خَدِیجَۃُ ، قَدْ خَشِیتُ أَنْ یَکُونَ قَدْ خَالَطَ عَقْلِی شَیْئٌ ، إِنِّی إِذَا بَرَزْتُ أَسْمَعُ مَنْ یُنَادِی، فَلاَ أَرَی شَیْئًا ، فَأَنْطَلِقُ ہَارِبًا ، فَإِذَا ہُوَ عِنْدِی یُنَادِینِی ، فَقَالَتْ : مَا کَانَ اللَّہُ لِیَفْعَلَ بِکَ ذَلِکَ ، إِنَّک مَا عَلِمْتُ تَصْدُقُ الْحَدِیثَ ، وَتُؤَدِّی الأَمَانَۃَ ، وَتَصِلُ الرَّحِمَ ، فَمَا کَانَ اللَّہُ لِیَفْعَلَ بِکَ ذَلِکَ۔ فَأَسَرَّتْ ذَلِکَ إِلَی أَبِی بَکْرٍ ، وَکَانَ نَدِیمًا لَہُ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ ، فَأَخَذَ أَبُو بَکْرٍ بِیَدِہِ ، فَانْطَلَقَ بِہِ إِلَی وَرَقَۃَ ، فَقَالَ : وَمَا ذَاکَ ؟ فَحَدَّثَہُ بِمَا حَدَّثَتْہُ خَدِیجَۃُ ، فَأَتَی وَرَقَۃَ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَہُ ، فَقَالَ وَرَقَۃُ : ہَلْ تَرَی شَیْئًا ؟ قَالَ : لاَ ، وَلَکِنِّی إِذَا بَرَزْتُ سَمِعْتُ النِّدَائَ ، فَلاَ أَرَی شَیْئًا ، فَأَنْطَلِقُ ہَارِبًا ، فَإِذَا ہُوَ عِنْدِی ، قَالَ : فَلاَ تَفْعَلْ ، فَإِذَا سَمِعْتَ النِّدَائَ فَاثْبُتْ حَتَّی تَسْمَعَ مَا یَقُولُ لَک۔ فَلَمَّا بَرَزَ سَمِعَ النِّدَائَ : یَا مُحَمَّدُ ، قَالَ : لَبَّیْکَ ، قَالَ : قُلْ : أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ ، ثُمَّ قَالَ لَہُ : قُلَ : {الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ ، الرَّحْمَن الرَّحِیمِ ، مَالِکِ یَوْمِ الدِّینِ} حَتَّی فَرَغَ مِنْ فَاتِحَۃِ الْکِتَابِ ، ثُمَّ أَتَی وَرَقَۃَ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَہُ ، فَقَالَ لَہُ وَرَقَۃُ : أَبْشِرْ ، ثُمَّ أَبْشِرْ ، ثُمَّ أَبْشِرْ ، فَإِنِّی أَشْہَدُ أَنَّک الرَّسُولُ الَّذِی بَشَّرَ بِہِ عِیسَی عَلَیْہِ السَّلاَمُ : {بِرَسُولٍ یَأْتِی مِنْ بَعْدِی اسْمُہُ أَحْمَدُ} ، فَأَنَا أَشْہَدُ أَنَّک أَنْتَ أَحْمَدُ ، وَأَنَا أَشْہَدُ أَنَّک مُحَمَّد ، وَأَنَا أَشْہَدُ أَنَّک رَسُولُ اللہِ ، وَلَیُوشِکُ أَنْ تُؤْمَرَ بِالْقِتَالِ ، وَلَئِنْ أُمِرْتَ بِالْقِتَالِ وَأَنَا حَیٌّ لأُقَاتِلَنَّ مَعَک ، فَمَاتَ وَرَقَۃُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : رَأَیْتُ الْقَسَّ فِی الْجَنَّۃِ ، عَلَیْہِ ثِیَابٌ خُضْرٌ۔
(٣٧٧١٠) حضرت ابو میسرہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کھلی جگہ میں آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آواز دینے والے کو سنتے جو آپ کو آواز دیتا۔ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! پس جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ آواز سنتے تو آپ دوڑتے ہوئے چلنے لگتے۔ پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت خدیجہ کے پاس تشریف لائے اور ان کے سامنے یہ بات ذکر کی اور فرمایا : اے خدیجہ ! مجھے ڈر لگتا ہے کہ میری عقل میں کوئی چیز خلط ہوگئی ہے۔ میں جب کھلی جگہ کی طرف نکلتا ہوں تو میں کسی منادی کو سنتا ہوں لیکن مجھے کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی پس میں دوڑا ہوا چلا آیا۔ ناگہاں وہ منادی میرے ساتھ ہی تھا اور وہ مجھے آواز دے رہا تھا۔ حضرت خدیجہ نے عرض کیا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو ایسا نہیں کرے گا۔ آپ کو جتنا میں جانتی ہوں تو آپ سچ بات کی تصدیق کرتے ہیں اور امانت کو ادا کرتے ہیں اور صلہ رحمی کرتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ایسا نہیں کرے گا۔ حضرت خدیجہ نے یہ بات خفیہ طور پر حضرت ابوبکر سے بیان کردی۔ ابوبکر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جاہلیت کے زمانہ میں دوست تھے۔ حضرت ابوبکر نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہاتھ پکڑا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ورقہ کے پاس لے گئے۔ ورقہ نے پوچھا : کیا بات ہے ؟ آپ نے وہ ساری بات بیان کی جو حضرت خدیجہ نے آپ کو بتائی تھی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ورقہ کے پاس آئے اور یہ واقعہ ذکر کیا ہے۔ ورقہ نے پوچھا ؟ آپ نے کچھ دیکھا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں ! لیکن جب میں باہر نکلتا ہوں تو ایک آواز سنتا ہوں اور مجھے کوئی چیز دکھائی نہیں دی تو میں دوڑا ہوا چلا پس ناگہاں وہ منادی میرے ساتھ ہی تھا۔ ورقہ نے کہا : آپ (ایسا) نہ کریں۔ پس جب آپ آواز سنیں تو رُک جائیں یہاں تک کہ جو بات وہ آپ سے کہتا ہے اس کو سُن لیں۔
پھر جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھلی جگہ کی طرف نکلے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آواز سُنی : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں حاضر ! منادی نے کہا : کہیے ! میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ پھر منادی نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا { الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ ، الرَّحْمَن الرَّحِیمِ ، مَالِکِ یَوْمِ الدِّینِ } فاتحہ شریف کے آخر تک پڑھایا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ورقہ کے پاس تشریف لائے اور اس کے سامنے یہ بات ذکر کی تو ورقہ نے کہا : تمہیں بشارت ہو پھر تمہیں بشارت ہو پھر تمہیں بشارت ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ہی وہی رسول ہیں جن کی بشارت عیسیٰ نے دی تھی۔ (فرمایا تھا) ایسا رسول جو میرے بعد آئے گا اور اس کا نام احمد ہوگا۔ پس میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ احمد ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ محمد ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ اور قریب ہے کہ آپ کو قتال (جہاد) کا حکم دیا جائے اور اگر آپ کو قتال کا حکم دیا گیا اور میں زندہ ہوا تو البتہ ضرو ر بالضرور میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معیت میں قتال کروں گا۔ پھر (اس کے بعد) ورقہ فوت ہوگئے ۔ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میں نے اس عیسائی عالم کو جنت کے اندر سبز کپڑوں میں دیکھا ہے۔