hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 37715

.

ابن أبي شيبة

37715
Ibn Abi Shaybah
(۳۷۷۱۶) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : مَا رَأَیْتُ قُرَیْشًا أَرَادُوا قَتْلَ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، إِلاَّ یَوْمًا ائْتَمَرُوا بِہِ وَہُمْ جُلُوسٌ فِی ظِلِّ الْکَعْبَۃِ ، وَرَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُصَلِّی عِنْدَ الْمَقَامِ ، فَقَامَ إِلَیْہِ عُقْبَۃُ بْنُ أَبِی مُعَیْطٍ فَجَعَلَ رِدَائَہُ فِی عُنُقِہِ ، ثُمَّ جَذَبَہُ حَتَّی وَجَبَ لِرُکْبَتَیْہِ سَاقِطًا ، وَتَصَایَحَ النَّاسُ فَظَنُّوا أَنَّہُ مَقْتُولٌ ، فَأَقْبَلَ أَبُو بَکْرٍ یَشْتَدُّ ، حَتَّی أَخَذَ بِضَبْعَیْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ وَرَائِہِ ، وَہُوَ یَقُولُ : {أَتَقْتُلُونَ رَجُلاً أَنْ یَقُولَ رَبِّی اللَّہُ}؟ ثُمَّ انْصَرَفُوا عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ فَقَامَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَصَلَّی ، فَلَمَّا قَضَی صَلاَتَہُ ، مَرَّ بِہِمْ وَہُمْ جُلُوسٌ فِی ظِلِّ الْکَعْبَۃِ ، فَقَالَ : یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ ، أَمَا وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ ، مَا أُرْسِلْتُ إِلَیْکُمْ إِلاَّ بِالذَّبْحِ ، وَأَشَارَ بِیَدِہِ إِلَی حَلْقِہِ ، قَالَ : فَقَالَ لَہُ أَبُو جَہْلٍ : یَا مُحَمَّدُ ، مَا کُنْتَ جَہُولاً ، قَالَ : فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَنْتَ مِنْہُمْ۔ (ابو یعلی ۷۳۰۱)
(٣٧٧١٦) حضرت عمرو بن العاص سے روایت ہے کہ میں نے قریش کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارادہ کرتے (کبھی) نہیں دیکھا تھا۔ مگر ایک دن جب وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف سازش کر رہے تھے اور وہ کعبہ کے سایہ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مقام ابراہیم کے پاس نماز ادا فرما رہے تھے۔ پس عقبہ بن ابی معیط کھڑا ہوا اور اپنی چادر کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی گردن میں ڈالا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کھینچا یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے گھٹنوں کے بل گرنے لگے۔ لوگوں نے شورو غل کیا تو لوگوں نے یہ گمان کیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مقتول ہوگئے ہیں۔ حضرت ابوبکر سختی کے ساتھ آگے بڑھے یہاں تک کہ انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بغلوں کے پیچھے سے پکڑ لیا اور فرمانے لگے۔ { أَتَقْتُلُونَ رَجُلاً أَنْ یَقُولَ رَبِّی اللَّہُ }
پھر لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہٹ گئے۔
پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی پس جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھ چکے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قریش کے پاس سے گزرے جبکہ وہ کعبہ کے سایہ میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے گروہ قریش ! خبردار ! قسم اس ذات کی جس کے قبضے میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے۔ مجھے تمہاری طرف نہیں بھیجا گیا مگر ذبح کے ساتھ ۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہاتھ سے اپنے حلق کی طرف اشارہ فرمایا : راوی کہتے ہیں : ابو جہل نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : اے محمد ! تم تو جاہل نہیں تھے۔ راوی کہتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو بھی ان میں سے ہے۔