(۳۷۷۲۳) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ حُمَیْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ شُجَّ فِی وَجْہِہِ ، وَکُسِرَتْ رُبَاعِیَّتُہُ ، وَرُمِیَ رَمْیَۃً عَلَی کَتِفِہِ ، فَجَعَلَ یَمْسَحُ الدَّمَ عْن وَجْہِہِ ، وَیَقُولُ : کَیْفَ تُفْلِحُ أُمَّۃٌ فَعَلَتْ ہَذَا بِنَبِیِّہَا وَہُوَ یَدْعُوہُمْ إِلَی اللہِ ؟ فَأَنْزَلَ اللَّہُ : {لَیْسَ لَک مِنَ الأَمْرِ شَیْئٌ ، أَوْ یَتُوبَ عَلَیْہِمْ ، أَوْ یُعَذِّبَہُمْ فَإِنَّہُمْ ظَالِمُونَ}۔ (ترمذی ۳۰۰۲۔ احمد ۲۰۱)
(٣٧٧٢٣) حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سر مبارک میں زخم آیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے کے چار دانت شہید ہوگئے اور ایک تیر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کندھے پر لگا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے چہرے سے خون کو پونچھ رہے تھے اور فرما رہے تھے۔ وہ امت کس طرح کامیاب ہوسکتی ہے جس نے اپنے نبی کے ساتھ یہ رویہ اختیار کیا حالانکہ وہ نبی ان کو اللہ کی طرف بلاتا ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : { لَیْسَ لَک مِنَ الأَمْرِ شَیْئٌ ، أَوْ یَتُوبَ عَلَیْہِمْ ، أَوْ یُعَذِّبَہُمْ فَإِنَّہُمْ ظَالِمُونَ }۔