(۳۷۷۲۴) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : قالَتْ قُرَیْشٌ لِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنْ کُنْتَ نَبِیًّا کَمَا تَزْعُمُ ، فَبَاعِدْ جَبَلَیْ مَکَّۃَ ، أَخْشَبَیْہَا ہَذَیْنِ مَسِیرَۃَ أَرْبَعَۃِ أَیَّامٍ ، أَوْ خَمْسَۃٍ ، فَإِنَّہَا ضَیِّقَۃٌ حَتَّی نَزْرَعَ فِیہَا وَنَرْعَی ، وَابْعَثْ لَنَا آبَائَنَا مِنَ الْمَوْتَی حَتَّی یُکَلِّمُونَا ، وَیُخْبِرُونَا أَنَّک نَبِیٌّ ، وَاحْمِلْنَا إِلَی الشَّامِ ، أَوْ إِلَی الْیَمَنِ ، أَوْ إِلَی الْحِیرَۃِ ، حَتَّی نَذْہَبَ وَنَجِیئَ فِی لَیْلَۃٍ ، کَمَا زَعَمْتَ أَنَّک فَعَلْتَہُ ، فَأَنْزَلَ اللَّہُ : {وَلَوْ أَنَّ قُرْآنًا سُیِّرَتْ بِہِ الْجِبَالُ ، أَوْ قُطِّعَتْ بِہِ الأَرْضُ ، أَوْ کُلِّمَ بِہِ الْمَوْتَی}۔ (ابن جریر ۱۵۱)
(٣٧٧٢٤) حضرت عامر روایت کرتے ہیں کہ قریش نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : اگر تم نبی ہو ! جیسا کہ تمہارا خیال ہے تو پھر تم مکہ کے ان دو پہاڑوں کو ، جن پر پانی جمع نہیں رہتا، چار یا پانچ دن کی مسافت تک دور کردو ۔ کیونکہ یہ تنگ ہیں۔ تاکہ ہم اس میں کھیتی باڑی کریں اور ہم اس کو چراگاہ بنائیں۔ اور ہمارے فوت شدہ آباء کوا اٹھاؤ تاکہ وہ ہم سے باتیں کریں اور ہمیں بتائیں کہ آپ نبی ہیں۔ اور آپ ہمیں شام ، یمن اور حیرۃ کی طرف اٹھائیں تاکہ ہم ایک ہی رات میں آئیں اور جائیں۔ جیسا کہ آپ کا گمان ہے کہ آپ نے ایسا کیا ہے۔ تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : { وَلَوْ أَنَّ قُرْآنًا سُیِّرَتْ بِہِ الْجِبَالُ ، أَوْ قُطِّعَتْ بِہِ الأَرْضُ ، أَوْ کُلِّمَ بِہِ الْمَوْتَی }۔