hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 37727

.

ابن أبي شيبة

37727
Ibn Abi Shaybah
(۳۷۷۲۸) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أُتِیَ بِالْبُرَاقِ ، ہُوَ دَابَّۃٌ أَبْیَضُ طَوِیلٌ ، یَضَعُ حَافِرَہُ عِنْدَ مُنْتَہَی طَرَفِہِ ، قَالَ : فَلَمْ یُزَایِلْ ظَہْرَہُ ہُوَ وَجِبْرِیلُ ، حَتَّی أَتَیَا بَیْتَ الْمَقْدِسِ ، وَفُتِحَتْ لَہُمَا أَبْوَابُ السَّمَائِ فَرَأَی الْجَنَّۃَ وَالنَّارَ۔ قَالَ : وَقَالَ حُذَیْفَۃُ : وَلَمْ یُصَلِّ فِی بَیْتِ الْمَقْدِسِ ، قَالَ زِرٌّ : فَقُلْتُ : بَلَی ، قَدْ صَلَّی ، قَالَ حُذَیْفَۃُ : مَا اسْمُک یَا أَصْلَعُ ؟ فَإِنِّی أَعْرِفُ وَجْہَک ، وَلاَ أَدْرِی مَا اسْمُک ؟ قَالَ : قُلْتُ : زِرُّ بْنُ حُبَیْشٍ ، قَالَ : فَقَالَ : وَمَا یُدْرِیکَ ؟ وَہَلْ تَجِدُہُ صَلَّی ؟ قَالَ : قُلْتُ : یَقُولُ اللَّہُ : {سُبْحَانَ الَّذِی أَسْرَی بِعَبْدِہِ لَیْلاً مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إلَی الْمَسْجِدِ الأَقْصَی الَّذِی بَارَکْنَا حَوْلَہُ لِنُرِیَہُ مِنْ آیَاتِنَا ، إِنَّہُ ہُوَ السَّمِیعُ الْبَصِیرُ}۔ قَالَ : وَہَلْ تَجِدُہُ صَلَّی ؟ إِنَّہُ لَوْ صَلَّی فِیہِ صَلَّیْنَا فِیْہِ ، کَمَا نُصَلِّی فِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ، وَقِیلَ لِحُذَیْفَۃَ : وَرَبَطَ الدَّابَّۃَ بِالْحَلَقَۃِ الَّتِی یَرْبِطُ بِہَا الأَنْبِیَائُ ؟ فَقَالَ حُذَیْفَۃُ : أَوَکَانَ یَخَافُ أَنْ تَذْہَبَ ، وَقَدْ أَتَاہُ اللَّہُ بِہَا ؟۔
(٣٧٧٢٨) حضرت زر، حضرت حذیفہ بن یمان سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس براق لائی گئی۔ یہ ایک طویل سفید رنگ کا جانور تھا جو منتہی نظر پر قدم رکھتا تھا۔ راوی کہتے ہیں : پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور جبرائیل اس کی پشت پر سوار رہے یہاں تک کہ دونوں بیت المقدس پہنچ گئے اور ان کے لیے آسمانوں کے دروازے کھول دیئے گئے پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنت اور جہنم کو دیکھا۔
راوی کہتے ہیں : حضرت حذیفہ نے فرمایا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیت المقدس میں نماز ادا نہیں کی۔ حضرت زر کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا۔ کیوں نہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھی ہے۔ حضرت حذیفہ نے فرمایا : اے گنجے ! تیرا نام کیا ہے ؟ میں تیری شکل سے واقف ہوں لیکن تیرے نام سے واقف نہیں ہوں ؟ حضرت زر کہتے ہیں۔ میں نے جواباً کہا : زر بن حبیش۔ راوی کہتے ہیں۔ اس نے کہا : ارشاد خداوندی ہے۔ { سُبْحَانَ الَّذِی أَسْرَی بِعَبْدِہِ لَیْلاً مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إلَی الْمَسْجِدِ الأَقْصَی الَّذِی بَارَکْنَا حَوْلَہُ لِنُرِیَہُ مِنْ آیَاتِنَا ، إِنَّہُ ہُوَ السَّمِیعُ الْبَصِیرُ }
حضرت حذیفہ نے فرمایا : کیا تم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو (وہاں) نماز پڑھتے ہوئے پایا ہے ؟ اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیت المقدس میں نماز پڑھتے تو ہم (بھی) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ نماز پڑھتے جیسا کہ ہم مسجد حرام میں نماز پڑھتے ہیں۔ حضرت حذیفہ سے کہا گیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جانور کو اس کڑے کے ساتھ باندھا جس کے ساتھ انبیاء باندھا کرتے تھے ؟ حضرت حذیفہ نے فرمایا : کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس بات کا خوف تھا کہ وہ چلا جائے گا حالانکہ اس کو تو اللہ تعالیٰ لائے تھے ؟