(۳۷۷۲۹) حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَی ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، عَنْ أَبِی الصَّلْتِ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : رَأَیْتُ لَیْلَۃَ أُسْرِیَ بِی ، لَمَّا انْتَہَیْنَا إِلَی السَّمَائِ السَّابِعَۃِ ، فَنَظَرْتُ فَوْقِی فَإِذَا أَنَا بِرَعْدٍ وَبَرْقٍ وَصَوَاعِقَ ، قَالَ : وَأَتَیْتُ عَلَی قَوْمٍ بُطُونُہُمْ کَالْبُیُوتِ ، فِیہَا الْحَیَّاتُ تُرَی مِنْ خَارِجِ بُطُونِہِمْ ، فَقُلْتُ : مَنْ ہَؤُلاَئِ یَا جِبْرِیلُ ؟ قَالَ ، ہَؤُلاَئِ أَکَلَۃُ الرِّبَا ، فَلَمَّا نَزَلْتُ إِلَی السَّمَائِ الدُّنْیَا ، نَظَرْت أَسْفَلَ شَیئٍ فَإِذَا بِرَہْجٍ وَدُخَانٍ وَأَصْوَاتٍ ، فَقُلْتُ : مَا ہَذَا یَا جِبْرِیلُ؟ قَالَ: ہَذِہِ الشَّیَاطِینُ یَحُومُونَ عَلَی أَعْیُنِ بَنِی آدَمَ، لاَ یَتَفَکَّرُوا فِی مَلَکُوتِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ، وَلَوْلاَ ذَاکَ لَرَأَوْا الْعَجَائِبَ۔ (ابن ماجہ ۲۲۷۳۔ احمد ۳۵۳)
(٣٧٧٢٩) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” جس رات مجھے سیر کروائی گئی ۔ میں نے دیکھا کہ جب ہم ساتویں آسمان تک پہنچے تو میں نے اپنے اوپر کو نظر اٹھائی تو مجھے گرج، بجلی اور کڑک دکھائی دیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں کہ میں ایک گروہ کے پاس آیا ان کے پیٹ گردنوں کی طرح تھے اور ان میں سانپ تھے جو باہر سے نظر آ رہے تھے۔ میں نے پوچھا : اے جبرائیل ! یہ کون لوگ ہیں ؟ جبرائیل نے کہا : یہ سود خور لوگ ہیں۔ پھر جب میں آسمان دنیا کی طرف اترا تو میں نے نیچے دیکھا۔ مجھے گرد، دھواں اور آوازیں سنائی دیں۔ میں نے پوچھاـ: اے جبرائیل ! یہ کیا ہے ؟ جبرائیل نے کہا : یہ شیاطین ہیں جو بنی آدم کی آنکھوں کو فریب دیتے ہیں۔ وہ آسمانوں اور زمین کی نشانیوں میں تفکر نہیں کرتے۔ اگر یہ چیزیں نہ ہوتیں تو بنی آدم کو عجائبات دکھائی دیتے۔