(۳۷۷۵۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إِدْرِیسَ ، عَنْ أَبِی مَالِکٍ الأَشْجَعِیِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، قَالَ : قُلْتُ لاِبْنِ الْحَنَفِیَّۃِ : أَبُو بَکْرٍ کَانَ أَوَّلَ الْقَوْمِ إِسْلاَمًا ؟ قَالَ : لاَ ، قُلْتُ : فِیمَ عَلاَ أَبُو بَکْرٍ وَسَبَقَ ، حَتَّی لاَ یُذْکَرَ أَحَدٌ غَیْرُ أَبِی بَکْرٍ ؟ قَالَ : کَانَ أَفْضَلَہُمْ إِسْلاَمًا حِینَ أَسْلَمَ حَتَّی لَحِقَ بِرَبِّہِ۔
(٣٧٧٥٠) حضرت سالم سے روایت ہے کہ میں نے ابن الحنفیہ سے پوچھا۔ لوگوں میں سے سب سے پہلے حضرت ابوبکر اسلام لائے تھے ؟ انھوں نے فرمایا : نہیں ! میں نے عرض کیا : پھر حضرت ابوبکر نے کس بنیاد پر عالی مرتبہ حاصل کیا۔ اور سبقت لے گئے یہاں تک کہ حضرت ابوبکر صدیق کے علاوہ کسی کا ذکر ہی نہیں ہوتا ؟ انھوں نے جواب دیا کہ حضرت ابوبکر صدیق جب اسلام لائے تو وہ لوگوں میں سے سب سے افضل اسلام لانے والے تھے تاآنکہ وہ اپنے پروردگار سے جا ملے۔