(۳۷۷۵۹) حدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو فَزَارَۃَ، قَالَ: أَبْصَرَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ زَیْدَ بْنَ حَارِثَۃَ غُلاَمًا ذَا ذُؤَابَۃٍ، قَدْ أَوْقَفَہُ قَوْمُہُ بِالْبَطْحَائِ یَبِیعُونَہُ، فَأَتَی خَدِیجَۃَ، فَقَالَ: رَأَیْتُ غُلاَمًا بِالْبَطْحَائِ قَدْ أَوْقَفُوہُ لِیَبِیعُوہُ، وَلَوْ کَانَ لِی ثَمَنُہُ لاَشْتَرَیْتُہُ، قَالَتْ: وَکَمْ ثَمَنُہُ؟ قَالَ: سَبْعُ مِئَۃٍ، قَالَتْ: خُذْ سَبْعَ مِئَۃٍ، وَاذْہَبْ فَاشْتَرِہِ، فَاشْتَرَاہُ، فَجَائَ بِہِ إِلَیْہَا، قَالَ: أَمَا إِنَّہُ لَوْ کَانَ لِی لأَعْتَقْتُہُ، قَالَتْ: فَہُوَ لَک فَأَعْتَقَہُ۔ (ابن عساکر ۳۵۲)
(٣٧٧٥٩) حضرت ابو فزارہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت زید بن حارثہ کو زلفوں والے غلام کی حالت میں دیکھا جبکہ ان کو ان کی قوم نے بطحاء میں فروخت کرنے کے لیے کھڑا کیا ہوا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت خدیجہ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : میں نے بطحاء میں ایک غلام کو دیکھا ہے جس کو لوگوں نے فروخت کرنے کے لیے کھڑا کیا ہے۔ اگر میرے پاس اس کی قیمت ہوتی تو میں اس کو خرید لیتا۔ حضرت خدیجہ نے عرض کیا۔ اس کی قیمت کیا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سات سو۔ حضرت خدیجہ نے کہا : سات سو لے لیں اور جائیں اس کو خرید لیں۔ پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو خرید لیا اور اس کو لے کر حضرت خدیجہ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا۔ بات یہ ہے کہ اگر یہ میرا ہوتا تو میں اس کو آزاد کردیتا ۔ حضرت خدیجہ نے عرض کیا۔ یہ غلام آپ کا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو آزاد کردیا۔